مذہب جرمنی میں بھی ایک چونکا دینے والا لفظ | معاشرہ | DW | 11.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

مذہب جرمنی میں بھی ایک چونکا دینے والا لفظ

دنیا بھر میں مذہبی آزادی سے متعلقہ امور کے نگران کسی اہلکار کا کام بھلا کیا ہوتا ہے؟ مارکوس گرُوئبل کے لیے اس کام کا ایک سالہ میزانیہ واقعی آنکھیں کھول دینے والا ہے: دنیا بھر میں مذہبی تنازعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

دنیا بھر میں مذہبی آزادیوں سے متعلقہ امور کے نگران وفاقی جرمن حکومت کے مقرر کردہ عہدیدارمارکوس گرُوئبل

دنیا بھر میں مذہبی آزادیوں سے متعلقہ امور کے نگران وفاقی جرمن حکومت کے مقرر کردہ عہدیدارمارکوس گرُوئبل

آج کی دنیا میں مذہبی وجوہات کی بناء پر شروع ہونے والے تنازعات نہ صرف زیادہ تواتر سے پیدا ہونے لگے ہیں بلکہ اس پیش رفت کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر مختلف مذاہب کے رہنماؤں کو، وہ جہاں کہیں بھی ہوں اور جس حیثیت میں بھی ہوں، امن کے لیے زیادہ مؤثر کاوشیں کرنا ہوں گی۔

مارکوس گرُوئبل کا تعلق چانسلر میرکل کی قیادت میں قائم جرمنی کی وسیع تر مخلوط حکومت میں شامل قدامت پسند جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین یا سی ڈی یو سے ہے۔

وہ وفاقی جرمن پارلیمان کے رکن بھی ہیں۔ گرُوئبل کو انگیلا میرکل نے وفاقی حکومت کی طرف سے عالمی سطح پر مذہبی آزادیوں سے متعلقہ امور کا نگران اہلکار مقرر کیا تھا۔

اب انہیں اس عہدے پر اپنی ذمے داریاں انجام دیتے ہوئے ایک سال ہو گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’دنیا بھر میں مذہبی آزادیوں کی صورت حال کے حوالے سے جو پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے، وہ اچھی نہیں ہے۔ عالمی سطح پر مذہبی اقلیتوں کو درپیش حالات مجموعی طور پر خراب ہی ہوئے ہیں۔‘‘

ڈوئچے ویلے کے ساتھ ایک انٹرویو میں مارکوس گرُوئبل نے کہا، ’’عالمی سطح پر مذہبی آزادیوں سے متعلقہ امور کا نگران اہلکار، اس عہدے کا نام بہت لمبا ہے۔ لیکن اس سے بھی مشکل اس عہدے پر کام کرنے والی شخصیت کی ذمے داریاں ہوتی ہیں، یعنی بین الاقوامی سطح پر کئی مختلف پہلوؤں سے مذہب اور مذہبی آزادیوں سے جڑے تنازعات اور پیچیدہ حالات پر قریب سے نظر رکھنا۔‘‘

Markus Grübel

مارکوس گرُوئبل عراق میں ایک مذہبی اقلیت کے ارکان سے ملاقات کرتے ہوئے

انہوں نے کہا، ’’آج کی دنیا میں برداشت کم ہوتی جا رہی ہے۔ شدت پسند، خاص طور پر انتہا پسند مسلم گروپوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ چین میں ایغور مسلم اقلیت کو درپیش حالات زیادہ سے زیادہ تشویش کا سبب بن رہے ہیں۔ ہم نے واضح طور پر محسوس کیا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کو درپیش حالات خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے لیے اپنے عقائد کے مطابق ان پر عمل کر سکنے کے امکانات محدود ہوتے جا رہے ہیں، اور یہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔‘‘

باقاعدگی سے رپورٹ کی تیاری

جرمنی میں وفاقی حکومت کی سطح پر ایسے ایک اہلکار کی تقرری عمل میں آئے گی، یہ بات موجودہ مخلوط حکومت کے قیام کے معاہدے میں ایک سال پہلے میرکل کی جماعت سی ڈی یو، سی ایس یو اور سوشل ڈیموکریٹس کی جماعت ایس پی ڈی کے مابین طے پائی تھی۔ اس اہلکار کو باقاعدگی سے اپنی رپورٹیں بھی پیش کرنا ہوتی ہیں۔

اب تک جرمنی میں ایسی کوئی رپورٹ صرف ایک ہی بار پیش کی گئی تھی، 2016ء میں۔ لیکن مستقبل میں وفاقی حکومت کا ارادہ ہے کہ ایسی رپورٹیں ہر دو سال بعد پیش کی جایا کریں گی۔

مارکوس گرُوئبل کی عمر 59 برس ہے، ان کا تعلق جنوبی جرمن صوبے باڈن ورٹمبرگ سے ہے اور وہ 2002ء سے جرمنی میں وفاقی پارلیمان کے رکن چلے آ رہے ہیں۔ اس وقت ان کا دفتر جرمنی کی ترقیاتی امدا دکی وزرات میں واقع ہے۔

جرمنی بھی ان کے دائرہ کار کا حصہ

مارکوس گرُوئبل کو دنیا بھر میں مذہبی آزادیوں کی صورت حال پر نظر رکھنا ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے باضابطہ دائرہ کار میں جرمنی بھی شامل ہے، کیونکہ ’جرمنی بھی تو اسی دنیا کا ایک ملک ہے‘۔ ان کے بقول جرمنی میں بھی کئی معاملات ایسے ہیں، جن پر مذہبی آزادیوں کے حوالے سے ریاست کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کی ایک مثال دیتے ہوئے گرُوئبل نے کہا کہ مسلمانوں اور یہودیوں کے لیے گوشت کا اسلامی یا یہودی عقیدے کے مطابق حلال ہونا لازمی ہوتا ہے۔ لیکن مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کے لیے جرمنی میں مذہبی تقاضوں کے مطابق جانوروں کے ذبح کیے جانے کا انتظام مجموعی طور پر تسلی بخش نہیں ہے۔

مزید یہ کہ مسیحی آبادی کے لیے کلیساؤں کی گھنٹیوں کا بجنا بھی مذہبی طور پر اہم ہے جبکہ جرمنی میں مسلم اقلیت پر ترک ریاست کا اثر و رسوخ بھی ایک ایسا متنازعہ معاملہ ہے، جس کا برلن حکومت خاتمہ چاہتی ہے، اس لیے کہ جرمنی کی مساجد میں سے اکثر کے امام ایک ترک ریاستی ادارے کی طرف سے جرمنی بھیجے جاتے ہیں۔

مذہب کا کام چونکا دینا نہیں

مارکوس گرُوئبل کے مطابق اسلام دشمنی، سامیت دشمنی، تارکین وطن کی مذہبی ضروریات اور خواتین کے حقوق میں مذاہب کا کردار، یہ سب وہ عوامل ہیں، جن پر جرمنی میں بھی غور و فکر کی ضرورت ہے۔ گرُوئبل نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ مذہب جرمنی میں بھی ایک چونکا دینے والا لفظ ہے اور ضرورت اس بات کی ہےکہ اس لفظ کو دنیا میں کہیں بھی انسانوں کو چونکا دینا نہیں بلکہ برداشت، احترام، سکون اور امن کا احساس دلانا چاہیے۔

کرسٹوف اشٹراک / م م / ع ا

DW.COM