مذہبی اجتماعات کا کنٹرول ٹیکنالوجی کی مدد سے | معاشرہ | DW | 19.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مذہبی اجتماعات کا کنٹرول ٹیکنالوجی کی مدد سے

کمبھ میلے کے دوران جہاں لاکھوں ہندو زائرین اساطیری رویات کے تحت ’مقدس پانیوں‘ میں ڈبکی لگا کر خود کو پاک بنانے کی کوشش میں ہیں، وہیں اس میلے کے انتظامات کے لیے جدید ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

default

کمبھ میلے کا شمار دنیا کے بہت بڑے اجتماعات میں ہوتا ہے

نئی ٹیکنالوجی بنانے والے ماہرین کے ایک گروپ نے کمبھ میلے کے انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے ایک ایپلیکیشن (ایپ) بنائی ہے، جس کی مدد سے اس میلے میں شرکت کرنے والے زائرائن اور انتظامی اہلکاروں کو مفید معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس ایپ کی مدد سے ہجوم کو کنٹرول کرنے کے علاوہ ممکنہ وباؤں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی یہ ایپ پبلک سکیورٹی کو بھی ممکن بنانے میں مدد دے رہا ہے۔

DW.COM

چھ ہفتوں پر محیط تاریخی کمبھ میلے میں مختلف قسم کی رسومات اور عبادات کی جاتی ہیں لیکن ان میں سب سے اہم ’اشنان‘ ہوتا ہے۔ کمبھ کا میلہ ہر تین سال بعد چار مختلف ’مقدس مقامات‘ میں باری باری منعقد کیا جاتا ہے۔ اس مرتبہ اس مذہبی میلے کا انعقاد ناسک میں کیا جا رہا ہے۔ دیگر تین ’مقدس مقامات‘ جہاں اس ہندو مذہبی میلے کا اہتمام کیا جاتا ہے، ان میں ہریدوار، الٰہ آباد اور اوجین شامل ہیں۔ کمبھ میلے میں ہر مرتبہ لاکھوں ہندو زائرین شرکت کرتے ہیں۔ اس کا شمار دنیا کے بہت بڑے اجتماعات میں ہوتا ہے۔

سن 2003ء میں جب ناسک میں اس میلے کا اہتمام کیا گیا تھا تو وہاں بھگدڑ کی وجہ سے انتالیس زائرین لقمہ اجل بن گئے تھے۔ اسی لیے اس مرتبہ منتظمین نے خصوصی انتظامات کیے ہیں تاکہ کسی طرح کا بھی کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔ یہ نیا ایپ بھی انتظامی معاملات میں انتہائی مفید ثابت ہو رہا ہے۔ یہ ایپ اس میلے کو کنٹرول کرنے کے لیے پہلی مرتبہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم دو سال قبل ہی ماہرین نے اس ایپ کی تخلیق پر کام شروع کر دیا تھا۔

اس ایپ کو بنانے والی ٹیم میں شامل ایک ٹیک ایکسپرٹ رامیش کمار کے مطابق ’کمبھا تھون‘ نامی یہ ایپ دراصل بڑے ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، جس میں انتظامیہ اور زائرین کو فوری معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ ایپ کسی بھی سمارٹ فون کے ذریعے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس مرتبہ یہ ایپ صرف اینڈرائیڈ سسٹم کے لیے بنایا گیا ہے کیونکہ بھارت میں ایپل مصنوعات کے مقابلے میں سستے فون زیادہ استعمال کیے جاتے ہیں۔

اس ڈیجیٹل پیلٹ فارم کے ذریعے خوراک، طبی مدد، ٹریفک، کسی ایک مقام پر زیادہ افراد کے جمع ہو جانے یا دیگر اہم معاملات پر معلومات موجود ہیں۔ اس ایپ کے ذریعے صارف اہم اعلانات اور پروگرامز کی تفصیلات لمحوں میں جان سکتا ہے۔ اس میلے کے ایک منتظم رگوناتھ گواڈے نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، ’’اگر کسی ایک مقام پر لوگوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے تو اس طرف جانے والے راستے بند کر دیتے ہیں۔ ہم نے کئی جگہوں پر کنٹرول سینٹر بنا رکھے ہیں، جو اس ایپ سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق اقدامات کرتے ہیں۔‘‘

قدموں کو گننے والی ایجاد

’کمبھا تھون‘ نامی ایپ کے بارے میں سننے کے بعد پندرہ سالہ طالب علم نیلائے کلکرنی نے بھی ساتھی انجینئراسٹوڈنٹس کے ساتھ مل کر ایک نئی ایجاد کی ہے۔ انہوں نے ’آشی اوتو‘ کے نام سے ایک ایسا سسٹم بنایا ہے، جس سے کسی خاص مقام پر لوگوں کی درست تعداد معلوم کی جا سکتی ہے۔

Kumbh Mela Pilgerfest Indien

کمبھ میلے میں ہر مرتبہ لاکھوں ہندو زائرین شرکت کرتے ہیں۔ اس کا شمار دنیا کے بہت بڑے اجتماعات میں ہوتا ہے۔

اس سسٹم کے تحت مختلف اہم مقامات کے مرکزی دروازوں کے فرش پر ایسے سینسر لگائے جاتے ہیں، جن کی مدد سے وہاں داخل ہونے والے افراد کی گنتی ہو سکتی ہے، یعنی جب لوگ وہاں داخل ہوتے ہیں تو سینسر ان کے قدموں کے نقش سے ان کی گنتی شروع کر دیتا ہے۔ اسی طرح جب اس مقام سے لوگ دوسری جانب سے باہر نکلتے ہیں تو ان کے قدموں کی گنتی بھی ہو جاتی ہے۔ یوں یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ کسی مقام پر ایک مخصوص وقت میں کتنے لوگ موجود ہیں۔

کلکرنی کے بقول وہ کوئی ایسی چیز ایجاد کرنا چاہتے تھے، جس سے انسانیت کی بھلائی ہو سکے، ’’میں لوگوں کے لیے کوئی مفید ایجاد کرنا چاہتا تھا۔ صرف ایک گیم تیار کرنے سے ایسا نہیں ہو سکتا تھا، اس لیے میں نے ’آشی اوتو‘ کی تخلیق پر توجہ مرکوز کی۔‘‘ بھارت میں جہاں قدیمی روایات اور رسومات پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد عمل کرتی ہے، وہیں ٹیکنالوجی کے ماہرین ان اساطیری یا مذہبی تقریبات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بھی میدان میں اتر آئے ہیں۔