محبت یا دہشت گردی؟ | حالات حاضرہ | DW | 26.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

محبت یا دہشت گردی؟

بھارتی سپریم کورٹ پیر کو اس مقدمے کی سماعت کا آغاز کر رہی ہے ،جس میں استغاثہ کا کہنا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ کے حامی ’لو جہاد‘ کو استعمال کر کے ہندو لڑکیوں سے شادی کے بعد انہیں مسلمان بنا رہے ہیں۔

بھارتی تفتیشی اداروں کو شبہ ہے کہ مسلمان مرد ہندو لڑکیوں سے شادی کر کے انہیں تبدیلیء مذہب پر مجبور کر رہے ہیں اور انہیں اپنا پیغام پھیلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

علاؤالدین خلجی اور راجپوت ملکہ: فلم ’پدماوتی‘ کی نمائش مؤخر

گائے کے ہندو محافظوں کے ہاتھوں ایک مسلمان ہلاک، دوسرا زخمی

بھارت ميں مسلمانوں کے خلاف حملے، تصوير کا دوسرا رخ

گزشتہ اٹھائیس ماہ سے بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی جنوبی ریاست کیرالا میں بین المذہبی شادیوں والے درجنوں جوڑوں سے پوچھ گچھ کر چکی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ایسی شادیوں میں تمام خواتین ہندو اور تمام مرد مسلمان ہیں، جن سے ’انتہائی ذاتی نوعیت‘ کے سوالات پوچھے جا رہے ہیں، جن میں ’کیا آپ نے شادی سے پہلے بھی اپنے موجودہ شوہر کے ساتھ جنسی مراسم قائم کیے تھے؟‘، ’کیا آپ کے شوہر شادی سے پہلے آپ کو مسلم مزارات لے کر گئے تھے یا جانا کو کہا تھا؟‘، ’کیا آپ کو اسلام قبول کرنے کے لیے بلیک میل کیا گیا تھا؟‘ جیسے سوالات موجود ہیں۔

سخت گیر موقف کی حامل بھارتی تنظیم راشٹریا سیویم سیوک سَنگھ (آر ایس ایس) اور دیگر شدت پسند ہندو گروپ اپنے بیانات میں ان شادیوں کو ’لو جہاد‘ سے منسوب کر رہے ہیں۔ ان گروپوں کا کہنا ہے کہ ہندو لڑکیوں کو ڈرا دھمکا کر یا شادی کے ذریعے تبدیلی مذہب پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:17
Now live
03:17 منٹ

روہنگیا مسلمانوں کے لیے بھارتی زمین بھی تنگ ہوتی ہوئی

پولیس کی تفتیش کے مطابق ہندو شدت پسندوں کی جانب سے جس انداز کے دعوے کیے گئے تھے، فی الحال اس بابت کوئی منظم حکمت علمی کے اشارے نہیں ملی ہیں۔ تاہم جنوبی بھارت کی مضبوط اقتصادیات کی حامل ریاست کیرالا میں تفتیشی اداروں کی تحقیقات جاری ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی کے دو عہدیداروں کے نام ظاہر کیے بغیر بتایا ہے کہ تفتیش کاروں نے بین المذہبی شادیوں کے مجموعی طور پر 89 معاملات کی تفتیش کی، جن میں سے نو کو شدت پسند گروپ اسلامک اسٹیٹ سے ممکنہ روابط سے جوڑا گیا۔

یہ تفتیشی ایجنسی ان نو معاملات کو سپریم کورٹ میں پیش کرے گی، تاہم اس بابت شواہد کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔ تاہم دو معاملات میں عراق میں ایک دینی مدرسے کو خواتین کے بینک کھاتوں سے منتقل کی جانے والی رقوم کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ ایک اور معاملے میں ایک خاتون اور اس کے شوہر نے اسلامک اسٹیٹ کی پروپیگنڈا ویڈیوز کا پرچار کیا۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اس تفتیش سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت آر ایس ایس اور دیگر ہندو قوم پرست گروپوں کو ریاستی ادارے استعمال کر کے ملک میں ہندو بالادستی کا ایجنڈا مضبوط بنانے میں مدد دے رہی ہے۔ بھارت کی مجموعی آبادی کا تیرہ فیصد مسلم شہریوں پر مشتمل ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic

اشتہار