مجرم پناہ گزينوں کے ساتھ کيا کيا جائے، جرمنی منقسم | مہاجرین کا بحران | DW | 07.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مجرم پناہ گزينوں کے ساتھ کيا کيا جائے، جرمنی منقسم

نئے سال کی آمد کے موقع پر جرمن شہر کولون ميں کئی لڑکيوں اور عورتوں کو جنسی طور پر ہراساں کيے جانے کے واقعے کے بعد جرمن سياستدان اس موضوع پر منقسم ہيں کہ جرائم کے مرتکب پائے جانے والے مہاجرين کے ساتھ کيا برتاؤ کيا جائے۔

جرمن سياستدانوں کے مابين آج بروز جمعرات اس بارے ميں گرما گرم بحث و مباحثہ جاری رہا کہ آيا مجرمانہ کارروائيوں ميں ملوث پائے جانے والے سياسی پناہ کے متلاشی افراد کی ملک بدری آسان بنا دی جائے۔ موجودہ جرمن قوانين کے مطابق سياسی پناہ کی درخواست پر کارروائی کے دوران اگر کوئی شخص کسی مجرمانہ فعل ميں ملوث پايا جائے، تو اسے ملک بدر کرنے کے ليے تين برس کی سزائے قيد لازمی ہوتی ہے اور پھر ہی کہيں جا کر اسے ڈی پورٹ کيا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ يہ بھی لازمی ہے کہ متعلقہ فرد کو اس کے آبائی ملک ميں کوئی جانی خطرہ لاحق نہ ہو۔

حکام کا کہنا ہے کہ تاحال اس حوالے سے کوئی شواہد نہيں ملے ہيں کہ اکتيس دسمبر کی رات کولون ميں ہونے والے اس واقعے ميں ملوث افراد سياسی پناہ کے ليے جرمنی آنے والے تارکين وطن تھے۔ تاہم مشرق وسطی کے شورش زدہ ملکوں سے پناہ کے ليے جرمنی آنے والوں کے ليے چانسلر انگيلا ميرکل کی نرم پاليسی کے ناقدين حاليہ واقعات کا بھرپور استعمال کر رہے ہيں۔

يہ امر اہم ہے کہ متاثرہ لڑکيوں اور عورتوں کے بقول حملہ آور بظاہر ’عرب اور شمالی افريقی‘ ممالک سے تھے۔ حکام نے اب تک سولہ ملزمان سے پوچھ گچھ جاری رکھی ہوئی ہے ليکن ابھی تک کسی پر بھی فرد جرم عائد نہيں کی گئی ہے۔

وزير داخلہ تھوماس ڈے ميزيئر نے کہا ہے کہ جو غير ملکی اس فعل ميں ملوث تھے وہ يہ سمجھ ليں کہ انہيں ملک بدر کر ديا جائے گا

وزير داخلہ تھوماس ڈے ميزيئر نے کہا ہے کہ جو غير ملکی اس فعل ميں ملوث تھے وہ يہ سمجھ ليں کہ انہيں ملک بدر کر ديا جائے گا

آبروريزی کے دو واقعات اور لڑکيوں کو جنسی طور پر ہراساں کيے جانے کے درجنوں واقعات نے ان دنوں جرمنی ميں کھلبلی مچا کر رکھ دی ہے۔ وزير داخلہ تھوماس ڈے ميزيئر نے کہا ہے کہ جو غير ملکی اس فعل ميں ملوث تھے وہ يہ سمجھ ليں کہ انہيں ملک بدر کر ديا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’’ہميں اس بارے ميں بات کرنی پڑے گی کہ آيا اس وقت اقوام متحدہ کی جنيوا کنونشن اور يورپی ہيومن رائٹس کنونشن کے مطابق ان قوانين ميں کوئی تبديلی کی جائے۔‘‘ جرمنی ميں مخلوط حکومت ميں شامل جماعت کرسچن سوشل يونين کے ايک سينئر سياستدان اسٹيفان مائر نے مطالبہ کيا ہے کہ ان وارداتوں ميں ملوث افراد کو خواہ جتنی بھی اور جو بھی سزا دی جائے، انہيں ملک بدر کر ديا جانا چاہيے۔

دوسری جانب ايک اور اتحادی جماعت سوشل ڈيموکريٹس کے سياستدانوں نے قوانين ميں تراميم کی خلاف ورزی کی ہے۔ ايس پی ڈی کے نائب سربراہ رالف اسٹيگنر نے ايک جرمن اخبار ’ڈی ويلٹ‘ سے بات چيت کرتے ہوئے کہا، ’’ہميں نہ تو پناہ کے قانون ميں تراميم کی ضرورت ہے اور نہ ہی مہاجرين کے حوالے سے جنيوا کنونشن ميں۔‘‘ انہوں نے خبردار کيا ہے کہ عوام کے مزاج پر مسلسل رد عمل ظاہر کرنا قيادت کا ذمہ دارانہ طريقہ نہيں۔

يہ امر اہم ہے کہ سن 2015 ميں تقريبا 1.1 ملين مہاجرين سياسی پناہ کے ليے جرمنی پہنچ چکے ہيں۔