متحدہ فلسطینی حکومت کا اعلان ملتوی | حالات حاضرہ | DW | 20.06.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

متحدہ فلسطینی حکومت کا اعلان ملتوی

متحدہ فلسطینی حکومت کے قیام کا طے شدہ پروگرام الفتح اور حماس کے درمیان اختلافات حل نہ ہونے کا باعث ملتوی ہو گیا ہے۔

حماس کے رہنما خالد مشعل اور فلسطینی صدر محمود عباس

حماس کے رہنما خالد مشعل اور فلسطینی صدر محمود عباس

فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت الفتح نے قاہرہ میں ہونے والی متحدہ فلسطینی حکومت کے قیام کے حوالے سے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ اس بائیکاٹ کے ساتھ متحدہ فلسطینی حکومت کا قیام بھی ملتوی ہو گیا ہے۔ الفتح کی جانب سے یہ اعلان اتوار کے روز سامنے آیا ہے۔

الفتح اور حماس کے درمیان متحدہ فلسطینی حکومت کے لیے وزیر اعظم کے نام پر جو اختلافات پیدا ہو ئے تھے وہ ہنوز طے نہیں ہو سکے ہیں۔ مغربی ممالک کے حمایت یافتہ صدر محمود عباس سلام فیاض کو وزیر اعظم نامزد کرنا چاہتے ہیں۔ فیاض غرب اردن میں فلسطینی حکومت کے سربراہ ہیں اور وہ ماضی میں عالمی بینک میں اہم عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ عسکری تنظیم حماس سلام فائد کی تقرری کی مخالفت کر رہی ہے۔ حماس کا موقف ہے کہ سلام فیاض اسرائیل کے ساتھ تعاون کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

Flash-Galerie Palästinas Übergangsregierung zurückgetreten

سلام فیاض کے نام پر حماس اور الفتح میں اختلافات ہیں

عسکری تنظیم حماس الفتح کی حریف جماعت ہے۔ اس نے سن دو ہزار سات میں غزہ پٹی پر قبضہ کر لیا تھا، جہاں وہ بدستور قابض ہے۔ اسرائیل اور مغربی ممالک حماس کی عسکری سرگرمیوں کی بنا پر اس پر شدید تنقید کرتے ہیں۔

الفتح کے نمائندوں کے مطابق قاہرہ اجلاس منسوخ نہیں بلکہ ملتوی ہوا ہے۔ خیال رہے کہ مصر کی ثالثی میں حماس اور الفتح کے درمیان کچھ عرصے قبل ایک سمجھوتہ طے پایا تھا۔ مغربی ممالک اور اسرائیل اس سمجھوتے کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس اور الفتح کے درمیان اپریل میں ہونے والا سمجھوتہ علاقے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: ندیم گِل

DW.COM