متحدہ عرب امارات کے وفد کا تاریخی دورہ اسرائیل | حالات حاضرہ | DW | 21.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

متحدہ عرب امارات کے وفد کا تاریخی دورہ اسرائیل

اماراتی وفد کے اسرائیل پہنچنے پر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات’ایک ایسی تاریخ رقم کررہے ہیں جو نسلوں تک قائم رہے گی‘، فلسطینیوں نے تاہم اس دورے کو ’شرمناک‘ قرار دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کا ایک اعلی سطحی وفد اسرائیل کے پہلے اور تاریخی دورے پر منگل کے روز تل ابیب پہنچا۔ اس وفد میں امریکا کے اعلی حکام بھی شامل تھے۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ گزشتہ ماہ اسرائیل کے ہونے والے معاہدے کے بعد عرب اور یہودی مملکت کے درمیان معمول کے تعلقات استوار کرنے کرنے کے حوالے سے یہ دوسرا بڑا قدم ہے۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین کوئی ایک چوتھائی صدی میں اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے والے پہلے ممالک ہیں۔ اس سے قبل مصر اور اردن نے بالترتیب 1979اور 1994میں اسرائیل کے ساتھ امن کے معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو نے اماراتی وزیر مالیات عبید حمید الطائر، وزیر اقتصادیات عبداللہ بن طوق المعاری سمیت دیگر رہنماوں پر مشتمل اماراتی وفد کا پرجوش خیر مقدم کرتے ہوئے کہا”آج ہم تاریخ رقم کر رہے ہیں جو نسلوں تک قائم رہے گی۔"

نیتن یاہو کا کہنا تھا”میں سمجھتا ہوں کہ متحدہ عرب امارات کے اس اعلی سطحی وفد کے دورے سے ہمارے عوام کو، خطے کو اور پوری دنیا کو دوستانہ، پرامن اور تعلقات کو معمول پر لانے کے فوائد کا پتہ چل سکے گا۔‘‘  انہوں نے مزید کہا ”اس امن معاہدے کے حوالے سے ہمارے لوگوں میں بہت جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ یہ حقیقی، وسیع اور عمیق ہے اور یہ اس امکان کی عکاسی کرتا ہے جو آج حاصل ہوا ہے۔“

امریکا اورامن معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اس سے علاقائی امن و استحکام کو تقویت حاصل ہوگئی تاہم فلسطینوں نے ان معاہدوں پر اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے اور ان معاہدوں کی مذمت کی ہے۔

تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکیوٹیو کمیٹی کے رکن واصل ابو یوسف نے اسرائیل کی جانب سے نئی بستیوں کی توسیع کے اعلان کے درمیان متحدہ عرب امارات کے وفد کے دورہ اسرائیل کو”شرمناک" قرار دیا۔

واصل ابو یوسف نے مقبوضہ اسرائیلی علاقے، رملہ میں کہا”آج جن باہمی معاہدوں کا اعلان کیا گیا ہے اور اماراتی وفد کا جو دورہ ہوا ہے، ان سب سے اسرائیلی قبضے کو تقویت ملے گی اور اس کی جارحیت، ہٹ دھرمی اور خود سری میں اضافہ ہوگا۔ اور یہ فلسطینی عوام کے خلاف جرم ہے۔"

غزہ میں اسلام پسند گروپ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے بھی متحدہ عرب امارات کے وفد کی آمد کی نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا ”اس طرح کے دورے سے صرف مغربی کنارے کی زمینوں کو دھیرے دھیرے انضمام کرکے علاقے پر مکمل قبضے کرنے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔"

ویزا فری سفر

منگل کے روز تاریخی دورے کے دوران متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سرمایہ کاری، سائنسی تعاون اور سول ایوی ایشن سمیت چار معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات، ایک دوسرے کے شہریوں کو ویزا کے بغیر ایک دوسرے ملکوں کا سفر کرنے کی اجازت دینے پر بھی متفق ہوگئے۔ اسے اسرائیل اور عرب ریاست کے درمیان ایک غیر معمولی معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔

گوکہ اسرائیل کے پڑوسی ممالک مصر اور اردن کے ساتھ امن معاہدے ہیں لیکن ان کے شہریوں کو بھی اسرائیل میں داخل ہونے کے لیے ویزا کی ضرورت ہوتی ہے۔

بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ لوگوں کے آزادانہ نقل و حرکت سے اسرائیل اور امارتی معیشتوں کو فائدہ پہنچے گا۔

توقع ہے کہ آئندہ سال جنوری سے دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست پروازوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ اسرائیل کے شعبہ سیاحت کو کووڈ۔19کی وجہ سے سخت نقصان پہنچا ہے اور اسے امید ہے کہ ہر سال ڈھائی لاکھ اماراتی اسرائیل کا دورہ کریں گے۔ چند اسرائیلی کمپنیوں نے ابھی سے سیاحتی دوروں کی تشہیر شروع کردی ہے۔

ج ا / ص ز(روئٹرز، اے ایف پی)

ویڈیو دیکھیے 01:30

فلسطینی غرب اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کی منصوبہ بندی کے خلاف احتجاج

DW.COM