متحدہ عرب امارات کا اسرائیل مخالف قانون منسوخ، بائیکاٹ ختم | حالات حاضرہ | DW | 29.08.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

متحدہ عرب امارات کا اسرائیل مخالف قانون منسوخ، بائیکاٹ ختم

متحدہ عرب امارات کا ایک اڑتالیس سال پرانا اسرائیل مخالف قانون حتمی طور پر منسوخ اور اس یہودی ریاست کا بائیکاٹ ختم کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے متحدہ عرب امارات کے صدر نے ہفتہ انتیس اگست کو ایک فرمان بھی جاری کر دیا۔

Kombobild | Benjamin Netanjahu, Premierminister von Israel und Mohamed bin Zayed, Kronprinz von Abu Dhabi

ابوظہبی کے ولی عہد محمد بن زید النہیان، دائیں، اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو

دبئی سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق امریکی ثالثی سے اسرائیل اور خلیجی کی اس وفاقی ریاست نے رواں ماہ کے تقریباﹰ وسط میں باہمی سفارتی تعلقات قائم کرنے کا جو تاریخی اعلان کیا تھا، اس کے فوراﹰ بعد ہی دونوں ممالک میں دوطرفہ روابط کے قیام کی عملی تیاریاں شروع ہو گئی تھیں۔

اب باہمی تعلقات کو معمول کے مطابق ہمہ جہت بنانے کے لیے جو جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں، ان کے تحت اسرائیل اور یو اے ای کے مستقبل کے تعلقات عملاﹰ تشکیل پانے لگے ہیں۔ یہ انہی کوششوں کا حصہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان نے 29 اگست کو ایک صدارتی فرمان جاری کر دیا، جس کے تحت1972ء میں نافذ کیا جانے والا وہ وفاقی قانون حتمی طور پر مسنوخ کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد اسرائیل کے بائیکاٹ کو یقینی بنانا تھا۔

اسرائیلی مصنوعات کی تجارت اب قانونی عمل

ماضی میں اس قانون کی خلاف ورزی کر نے والے کسی بھی فرد، افراد یا ادارے کے لیے سزائیں بھی طے تھیں۔ اب لیکن یہ قانون منسوخ کر دیا گیا ہے اور یوں اسرائیل کا قانونی بائیکاٹ بھی ختم ہو گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی سرکاری نیوز ایجنسی نے لکھا ہے، ''اب ہر قسم کی اسرائیلی مصنوعات کو اپنے پاس رکھنا، ان کا تبادلہ اور خرید و فروخت سب کچھ قانونی طور پر کیا جا سکے گا۔‘‘

USA Annäherung zwischen Israel und den Vereinigten Arabischen Emiraten | Jared Kushner

اکتیس اگست کو ابوظہبی پہنچنے والے سرکاری وفد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور اعلیٰ مشیر جیئرڈ کُشنر بھی شامل ہوں گے

متحدہ عرب امارات اب تک اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کرنے والا دنیا کا صرف چوتھا مسلم اکثریتی ملک ہے۔ باقی تین ممالک ترکی، مصر اور اردن ہیں۔ یہ وفاقی ریاست یہودی ریاست کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے والی مجموعی طور پر تیسری عرب اور خلیج کی پہلی عرب ریاست ہے۔ فلسطینیوں نے یو اے ای اور اسرائیل کے مابین اس معاہدے کو 'دھوکا دہی‘ کا نام دیا تھا۔

باقاعدہ فضائی رابطے اکتیس اگست سے

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین براہ راست تجارتی پروازوں کا آغاز پیر 31 اگست سے ہو جائے گا۔ ایسا پہلا رابطہ اسرائیلی فضائی کمپنی ایل آل کی ایک پرواز ہو گی، جو ایک اسرائیلی امریکی وفد کو لے کر آج سے دو روز بعد تل ابیب سے ابوظہبی پہنچے گی۔

اسرائیل کی قومی فضائی کمپنی کے مطابق، ''یہ پرواز اسرائیل کے ایک سرکاری وفد کو لے کر ابوظہبی جائے گی۔ اور یہ اس ادارے کی اسرائیل سے متحدہ عرب امارات میں پہلی براہ راست اور باقاعدہ پرواز ہو گی۔‘‘

ٹرمپ کے داماد بھی وفد میں شامل

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر کی طرف سے اسی ہفتے بتایا گیا تھا کہ یو اے ای جانے والے اس پہلے سرکاری وفد کی قیادت اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر میئر بن شبات کریں گے اور یہ ایک پیشہ وارانہ وفد ہو گا۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور ان کے اعلیٰ مشیر جیئرڈ کُشنر نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ 31 اگست کو تل ابیب سے ابوظہبی پہنچنے والی فلائٹ میں اسرائیلی امریکی وفد کے ایک رکن کے طور پر نہ صرف وہ خود بھی سوار ہوں گے بلکہ ان کے ہمراہ صدر ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائن بھی ہوں گے۔

م م / ا ا (اے ایف پی، اے پی)

DW.COM