مبینہ جنگی جرائم: پاکستان معافی مانگے، ڈھاکہ حکومت | معاشرہ | DW | 21.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

مبینہ جنگی جرائم: پاکستان معافی مانگے، ڈھاکہ حکومت

اتوار کے دن بنگلہ دیش نےاسلام آباد حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ 1971ء کی جنگ آزادی کے دوران پاکستانی فوج کی طرف سے کیے گئے مبینہ قتل عام اور ظلم وستم کی باقاعدہ معافی مانگے۔

وزیر خارجہ دیپو مونی

وزیر خارجہ دیپو مونی

بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق وزیر خارجہ دیپو مونی نے ڈھاکہ میں تعینات کیے گئے نئے پاکستانی سفیر سے ملاقات کے دوران یہ مطالبہ کیا کہ نو ماہ تک جاری رہنے والی بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے دوران اس وقت کے مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستانی فوجیوں نے بنگالی عوام پر جو ظلم و ستم ڈھائے تھے، اس کے لیے سرکاری طور پر معذرت کی جائے۔

ڈھاکہ حکومت الزام عائد کرتی ہےکہ ان نو مہینوں کے دوران پاکستانی فوجیوں نےمقامی حامیوں کے ساتھ مل کر قریب تین ملین افراد کو ہلاک کیا، دو لاکھ خواتین کی آبروریزی کی جبکہ لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا۔ اسلام آباد حکومت بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے پیش کردہ ان اعدادوشمار پر اختلاف رکھتی ہے۔

Sheikh Hasina in Berlin

وزیر اعظم شیخ حسینہ

بنگلہ دیشی وزیرخارجہ دیپو مونی نے دونوں ملکوں کے درمیان مسائل کے حل کے لیے زور دیا کہ حکومت پاکستان ڈھاکہ حکومت کا مؤقف سمجھے اور اسے باضابطہ طور پر تسلیم کرے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین اثاثوں کی تقسیم اور جنگ کے ازالے جیسے مسائل بھی حل ہونے چاہییں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے مابین اچھے سفارتی تعلقات کے لیے ان مسائل کا حل ضروری ہے۔

وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت نے ان بنگالیوں کے خلاف ایک خصوصی عدالتی ٹربینول قائم کیا ہے، جو1971ء کی جنگ کے دوران مغربی پاکستانی فوجیوں کی مدد کرنے کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیشی اسلامی پارٹی جماعت اسلامی کے پانچ اہم رہنما اس وقت ان الزامات کا سامنا کر رہے ہیں اور حراست میں ہیں۔ انہی الزامات پر بنگلہ دیش کی اپوزیشن جماعت کے دو رہنماؤں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ تمام افراد ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

بین الاقوامی برادری نے ڈھاکہ حکومت پر زور دیا ہے کہ اس ٹربینول کی کارروائی کو شفاف اور غیر جانبدار رکھا جائے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس