مبينہ پوليس تشدد : گوجرانوالہ کا رہائشی ملک چھوڑنے پر مجبور | مہاجرین کا بحران | DW | 07.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مبينہ پوليس تشدد : گوجرانوالہ کا رہائشی ملک چھوڑنے پر مجبور

گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے رانا ناصر احمد کو زمين کے تنازعے پر مبينہ پوليس تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنی جان کو لاحق خطرات اور بہتر مستقبل کے ليے اُنہوں نے يورپ کا رخ کيا اور اِن دنوں يہاں سياسی پناہ کے متلاشی ہيں۔

زمين کی ملکیت کے ايک تنازعے نے رانا ناصر احمد کی زندگی ہی بدل ڈالی۔ وہ اِن دنوں جرمن شہر ايسن ميں مہاجرين کے ايک کيمپ ميں وقت گزار رہے ہيں۔ ڈی ڈبليو کے ساتھ ان کا خصوصی انٹرویو

ڈی ڈبليو: آپ نے پاکستان چھوڑنے کا فيصلہ کیوں کیا؟

رانا ناصر: بنيادی طور پر ميں نے زمين کے ايک تنازعے کی وجہ سے پاکستان چھوڑنے کا فيصلہ کيا۔ جس فرد کے ساتھ ميری دشمنی چل رہی تھی، اُس کا بيٹا پوليس ميں سب انسپکٹر ہے۔ تعلقات کی بنياد پر اُن لوگوں نے مجھے گرفتار کروایا اور پوليس نے مجھ پر بے رحمانہ تشدد کيا۔ اِس کے علاوہ ميرے خلاف متعدد جھوٹے مقدمات بھی قائم کر دیے گئے۔

ايک مرتبہ ميں کھيتوں ميں کام کر رہا تھا کہ پوليس کی تين گاڑياں اور متعدد موٹر سائيکليں آئيں۔ ميں نے فرار ہونے کی کوشش کی ليکن اُن لوگوں نے مجھے پکڑ کر ميرے منہ پر کپڑا باندھ ديا اور پھر مجھے لے گئے۔ ميرے اہل خانہ تک کو نہ بتايا گيا کہ مجھے کہاں اور کيوں لے جايا جا رہا ہے۔

پھر ايک دفعہ اُن لوگوں نے مجھے دس لاکھ کی ڈکيتی ميں ملوث ثابت کر کے گرفتار کرا ديا۔ بعدازاں ايک اغواء برائے قتل کا واقعہ ہوا، تو اُن لوگوں نے مجھے اِس سلسلے ميں بھی گرفتار کرا ليا۔ نارووال تھانے ميں مجھے کافی تشدد کا نشانہ بنايا گيا۔ اکثر پوليس والے مجھے تھانے کے علاوہ بھی کسی مقام پر رکھتے۔ قريب بيس بائيس دن تک ميرے گھر والوں کو بھی کوئی علم نہيں تھا کہ ميں کہاں ہوں۔ اِس دوران مجھے قتل کر دينے کی دھمکی دی جاتی، تو کبھی مجھے ساری ساری رات کے ليے الٹا لٹکا ديا جاتا۔ پوليس اہلکار اس بات کا خيال رکھتے تھے کہ مجھے زخم نہ آئيں تاکہ عدالت ميں تشدد ثابت نہ ہو سکے۔

انہی تمام وجوہات کی بناء پر ميں نے فيصلہ کيا کہ مجھے پاکستان چھوڑ دينا ہے۔ ميں نے وہ متنازعہ زمین بھی چھوڑ دی، جو میری ملکیت تھی۔

ڈی ڈبليو: کيا آپ نے پاکستان ميں ان افراد کے خلاف رپورٹ درج کرانے يا پھر کسی غير سرکاری تنظيم سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی يا نہيں؟

رانا ناصر: ميں نے متعلقہ تھانے ميں متعدد درخواستيں جمع کرائيں ليکن وہ ميری بات سنتے ہی نہيں تھے۔ ضرورت پڑنے پر ميں ان تمام درخواستوں کو پيش کر سکتا ہوں۔

ڈی ڈبليو: آپ نے پاکستان چھوڑنے کے لیے کون سا راستہ اختيار کيا؟

رانا ناصر: ميں سب سے پہلے ايک مقامی ايجنٹ کی مدد سے کوئٹہ پہنچا۔ کوئٹہ سے پھر ايران، جہاں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ميں نے ايک گاڑی ميں بارہ سے پندرہ افراد کے ہمراہ سفر کيا۔ کئی دنوں کی مسافت کے بعد ترکی پہنچے اور پھر وہاں سے سمندر کے راستے يونان۔ مختلف ايجنٹوں کی مدد سے ميں يونان سے مقدونيہ پہنچا اور پھر سربيا۔ جرمنی پہنچنے کے بعد مجھے لگا کہ يہ جگہ ٹھيک ہے۔

ڈی ڈبليو : آپ کا جرمنی آنے کا بنيادی مقصد کيا تھا اور آيا وہ پورا ہوا ہے؟

ناصر : ميں يہاں پناہ لينے آيا ہوں، اپنی جان کی حفاظت کے لیے آیا ہوں۔ يہاں کا ماحول خوشگوار ہے، دشمنی والا کوئی معاملہ نہيں اور مجھے کوئی نقصان نہيں پہنچا سکتا يہاں۔ جی بالکل ميں يہاں محفوظ محسوس کر رہا ہوں۔

کیا آپ کو سیاسی پناہ حاصل ہوئی؟

ان دنوں ميں جرمنی کے شہر ايسن ميں مہاجرين کے ليے قائم کردہ ايک عارضی رہائش گاہ کے کيمپ نمبر بياليس ميں اپنے شب و روز گزار رہا ہوں۔ ميں سياسی پناہ کے ليے درخواست جمع کرا چکا ہوں اور اب انٹرويو کا منتظر ہوں۔ مجھے سیاسی پنای دی جائے گی یا نہیں، اس کا فیصلہ میرا انٹرویو لینے کے بعد کیا جائے گا۔