ماں جنگ جیت گئی، مگر بچہ بازی ہار گیا | حالات حاضرہ | DW | 30.12.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ماں جنگ جیت گئی، مگر بچہ بازی ہار گیا

دو سالہ بچہ صدر ٹرمپ کی جانب سے یمنی باشندوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے تناظر میں اپنی ماں سے الگ ہو گیا تھا۔ اس کی ماں ان پابندیوں کے خلاف جنگ جیت گئی، مگر بچہ اس دوران مر گیا۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے چند مسلم اکثریتی ممالک کے باشندوں پر امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی، جس کی وجہ سے دو سالہ بچہ اپنی ماں سے جدا ہو گیا تھا۔ یہ بچہ امریکا میں ایک ہسپتال میں مصنوعی تنفس کے ذریعے زندہ رکھا گیا تھا، تاہم والدہ ہفتے کے روز امریکا پہنچیں جب کہ اس بچے کی لائف سپورٹ جمعے کے روز ختم کی جا چکی تھی۔

پانچ مسلم ممالک سے آنے والوں پر پابندیاں، ٹرمپ کی ’قانونی فتح‘

امریکی سپریم کورٹ نے سفری پابندیوں کے حکم نامے پر عمل درآمد کی اجازت دے دی

اس بچے کے والد علی حسن نے ایک آبرآلود سرد دن میں اپنے بچے کی ننھی لاش کیلی فورنیا کی سینٹرل ویلی کے ایک مسلم قبرستان میں دفن کی۔ اس بائیس سالہ باپ کا اس موقع پر کہنا تھا، ’’میں امریکی شہری ہوں۔ میرا بچہ امریکی شہری تھا۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’مسلمانوں پر گزشتہ ایک برس سے عائد پابندیوں نے میری بیوی کو امریکا میں داخلے سے روکے رکھا۔ یا تو میں اپنے بچے کی صحت کی فکر کرتا، یا میں اپنے خاندان کا ملاپ کرتا، میرے پاس راستہ ایک ہی تھا۔ ہم بے حد غصے میں ہیں۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ میرے بچے کی موت ضائع نہیں جائے گی۔‘‘

اس بچے کی ماں نے بچے کی موت کا سوگ گھر پر منایا۔ واضح رہے کہ مصنوعی تنفس پر زندہ دو سالہ عبداللہ حسن جمعے کے روز اوکلینڈ کے یو سی ایس ایف بینی آف چلڈرن ہسپتال میں انتقال کر گیا تھا۔ اس بچے کے والد علی حسن یمن سے ہجرت کر کے امریکا گئے تھے اور علی حسن نے اپنا لڑکپن امریکا ہی میں گزارا۔ سن 2016ء میں یمن جانے والے علی حسن کو وہاں شائمہ صالح سے عشق ہو گیا اور اسی سال ان کی شادی ہو گئی۔

صالح کا تعلق چوں کہ یمن کے ساتھ تھا، اس لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یمنی شہریوں پر امریکا میں داخلے کی پابندی عائد ہونے کے بعد یہ خاتون یمن میں پھنس گئیں، جب کہ یہ خاندان اس دوران قاہرہ میں رہتا رہا۔ بچے کی صحت بگڑنے پر علی حسن اپنے بچے کو امریکا واپس لائے، تاکہ اس کا بہتر علاج ہو سکے، تاہم اس بچے کی والدہ امریکا نہ پہنچ پائیں۔ یہ جوڑا ان پابندیوں کے خلاف قانونی جنگ لڑتا رہا اور بلآخر صالح کو امریکا میں داخلے کی قانونی اجازت مل گئی۔ تاہم اس دوران ان کا دو سالہ بچہ زندگی کی لڑائی ہار چکا تھا۔

ع ت، الف الف (اے پی)

DW.COM