مالی ميں فوجی بغاوت کے بعد حالات پرسکو ن | حالات حاضرہ | DW | 29.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مالی ميں فوجی بغاوت کے بعد حالات پرسکو ن

مالی ميں گزشتہ ہفتے فوج نے کيپٹن سنوگو کی قيادت ميں اقتدار پر قبضہ کر ليا۔ فوجی بغاوت کے ابتدائی دنوں ميں لوٹ مار کے بعد اب حالات پرسکون ہيں۔

فوجی بغاوت کے بعد مالی کا دارالحکومت باماکو

فوجی بغاوت کے بعد مالی کا دارالحکومت باماکو

يہ ابھی تک واضح نہيں ہے کہ صدر تمانی تورے کہاں ہيں۔ پير کی صبح بغاوت کے خلاف ايک پر امن مظاہرہ ہوا جس کے بعد شام کو فوجی حکومت کے حاميوں نے بھی ايک مظاہرے کا انتظام کيا۔

مالی کے دارالحکومت باماکو کے موڈيبو کيٹا اسٹيڈيم ميں نئی فوجی حکومت کے حاميوں نے کيپٹن سنوگو کی حمايت ميں پہلے جلسے کا انتظام کيا ہے۔ ليکن جلسہ گاہ کی 1000 نشستوں ميں سے نصف بھی پُر نہيں ہيں۔ شرکاء ميں سے اکثر نوجوان مرد ہيں۔ چند فوجی پہرے پر موجود ہيں جو موبائل ٹيليفون پر ايس ايم ايس لکھنے يا يادگار فوٹو کھينچنے ميں مصروف ہيں۔ تمام مقررين اچانک منظر عام پر آنے والی نوجوانوں کی تنظيموں کے صدور ہيں جو فضا ميں جوش پيدا کرنے کی کوشش کر رہے ہيں۔ ليکن لاؤڈ اسپيکر اتنے خراب ہيں کہ کوئی بھی اُن کی بات سمجھ نہيں سکتا۔ اس ليے لوگ بيزار ہو کر جانے لگے ہيں۔

باماکو ميں فوجی بغاوت

باماکو ميں فوجی بغاوت

بالکل قريب ہی ايک ہال ميں طلبا باسکٹ بال کھيل رہے ہيں۔ محمدو کو يہ پتہ ہی نہيں چلا ہے کہ چند ميٹر کے فاصلے پر فوجی بغاوت کی حمايت ميں ايک جلسہ ہو رہا ہے: ’’ميں تو يہ سمجھا تھا کہ وہاں باسکٹ بال کھيلی جا رہی تھی۔‘‘

فو جی بغاوت کے بعد طلبا کی زندگی تقريباً پہلے ہی کی طرح گذر رہی ہے۔ فوج کے حکومت سنبھالنے کے بعد سے يونيورسٹی بند ہے اور محمدو دوسرے طلبا ہی کی طرح کسی نہ کسی طوروقت گذار رہا ہے۔

مالی کے معزول صدر امادو تومانی تورے

مالی کے معزول صدر امادو تومانی تورے

باماکو کے علاقے ہپوڈروم ميں بھی فوجی بغاوت کا مشکل ہی سے کوئی اثر دکھائی ديتا ہے۔ فوج کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی شب ميں چار کلوميٹر دور صدارتی محل سے فائرنگ کی آوازيں سنی گئی تھيں۔ ليکن اس کے بعد پچھلے کئی دنوں سے بچے پھر کھیل کود رہے ہيں اور مرد سياسی صورتحال پر بحث ميں مصروف دکھائی ديتے ہيں۔ کئی سپر مارکٹس دوبارہ کھل گئی ہيں اور وہ اشيائے صرف سے بھری ہوئی ہيں۔ ايک مارکيٹ کی ملازمہ نے کہا کہ وہ سياسی بحران کا کم ہی اثر محسوس کرتی ہے۔ چند گلياں دور پرائمری اسکول کے استاد موئيزے کيٹا اپنے چند طلبا کے ساتھ بيٹھے ہوئے ہيں۔ اُنہوں نے کہا: ’’ ہميں ابھی تک کوئی واضح اطلاعات نہيں ملی ہيں۔ فی الحال ہم سب ہی انتظار کر رہے ہيں۔‘‘

باماکو ميں شام چھ بجے سے لے کر صبح چھ بجے تک لوگوں کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہيں ہے اور اس دوران کرفيو کا نفاذ ہوتا ہے، ليکن شام چھ بجے کے بعد بھی سڑکوں پر کاريں اور موٹر سائکليں دوڑتی رہتی ہيں۔

رپورٹ: کرسٹينے ہارييس / شہاب احمد صديقی

ادارت:افسر اعوان

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات

اشتہار