’مالک‘ پر پابندی، سوشل میڈیا کیا کہتا ہے؟ | فن و ثقافت | DW | 29.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’مالک‘ پر پابندی، سوشل میڈیا کیا کہتا ہے؟

فلم ’مالک‘ کی ریلیز اور پھر اس پر پابندی کے بعد سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ زیادہ تر حلقوں کا خیال ہے کہ اس فلم پر پابندی آزادی اظہار پر قدغن ہے جبکہ کچھ کے بقول اس فلم نے آزادی رائے کی حدود کو پار کیا ہے۔

فلم ’مالک‘ کے فلسماز اور ایکٹر عاشر عظیم کے مطابق وہ اس فلم پر عائد کردہ پابندی کے خلاف قانونی کارورائی کریں گے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے تمام تر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سنسر بورڈ نے اس فلم کی نمائش کی اجازت دی تھی لیکن وزارت اطلاعات و نشریات نے اس فلم پر اعتراضات کیے ہیں۔

کسی بھی مہذب معاشرے میں آزادی رائے پر پابندی کی اجازت نہیں ہے لیکن ساتھ ہی ملک کے مروجہ قوانین کی خلاف ورزی کی گنجائش بھی نہیں ہے۔ آزادی رائے یا اظہار کے قوانین بھی ہر ملک اپنے معاشرتی اور ثقافتی ورثے کو دیکھ کر کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی معاشرے کا کسی مغربی ملک سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا لیکن اس تناظر میں بہرحال کچھ کچھ بنیادی نکات پر سمجھوتہ مشکل ہے۔

عاشر عظیم نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اس حوالے سے بحث میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری بھی کود پڑے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں آزادی اظہار پر پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے البتہ کہا کہ پاکستان میں نسلی تعصب کی مذمت بھی کی جانا چاہیے۔

اس ٹوئٹ کے جواب میں عاشر عظیم نے بلاول کو مشورہ دیا کہ کوئی رائے دینے سے قبل وہ یہ فلم ضرور دیکھیں۔

ٹوئٹر پر صارفین نے یہ بھی کہا ہے کہ اس فلم پر پابندی عائد کرنے کی وجہ سے لوگوں کا اس طرف دھیان زیادہ ہو جائے گا اور زیادہ لوگ اسے دیکھنے کی کوشش کریں گے۔ ایسے حلقوں کے بقول یہ ایک عام سی فلم تھی، جس پر پابندی نے اس مشہور کر دیا ہے۔

کچھ حلقوں کے خیال میں اس فلم میں پاکستانی سیاستدانوں کو بدعنوانی دکھانا اور ملکی فوج کی ڈھکے چھپے انداز میں تعریف کرنا بھی ایک سیاسی درس کے مترادف ہے۔ بالخصوص اس فلم کا ایک سین انتہائی متنازعہ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں اس فلم کا ایک کردار وزیر اعلیٰ کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیتا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بحث کے مطابق اس مخصوص سین نے ممتاز قادری کی یاد تازہ کر دی ہے، جس نے ’توہین مذہب‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے گورنر سلمان تاثیر کو گولیوں سے چھلنی کر دیا تھا۔ یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا بدعنوان سیاستدانوں سے چھٹکارہ پانے کی خاطر قانون ہاتھ میں لے لینا چاہیے۔ ٹوئٹر صارف ملیحہ منظور کا ٹوئٹ ملاحظہ کیجیے۔

تاہم عاشر عظیم کا کہنا ہے کہ اس فلم کو سیاسی یا لسانی رنگ دینے کا مطلب ہے کہ اس فلم کے حقیقی موضوع سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ٹوئٹر کے علاوہ فیس بک پر اس فلم کے بارے میں بحث جاری ہے۔ فیس بک صارفین میں بھی زیادہ تر حلقے اس فلم پر لگائی جانے والی پابندی کے خلاف ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ نفرت انگیری، لسانی تفریق اور سیاسی منافرت کی اجازت نہیں ہونا چاہیے۔

ملتے جلتے مندرجات