مالٹا ڈیکلریشن، مہاجرین کے لیے ایک نئی اسکیم | حالات حاضرہ | DW | 06.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

مالٹا ڈیکلریشن، مہاجرین کے لیے ایک نئی اسکیم

یورپی یونین کے اہم ممالک نے سمندروں سے بچائے جانے والے مہاجرین کو یورپی ممالک میں تقسیم کرنے کا ایک ضابطہ تیار کیا ہے۔ منگل کے دن لکسمبرگ میں یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کی ایک ملاقات میں اس منصوبے پر غور کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جرمنی، فرانس اور اٹلی کی کوشش ہے کہ وہ دیگر رکن ریاستوں کو مالٹا ڈیکلریشن پر دستخط کرنے پر رضامند کر لیں، جس کے تحت سمندروں سے بچائے جانے والے مہاجرین کو یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں منصفانہ طریقے سے تقسیم کیا جا سکے۔

جرمنی، فرانس، اٹلی اور مالٹا نے اس حوالے سے رواں ماہ ہی ایک منصوبہ تیار کیا، جیسے مالٹا ڈیکلریشن قرار دیا جا رہا ہے۔ اب ان ممالک کی کوشش ہے کہ وہ دیگر رکن ریاستوں کو اس منصوبے پر رضامند کر لیں۔ اس تناظر میں سفارتی کوششیں جاری ہیں تاہم ابھی تک واضح نہیں کہ کتنے ممالک اس ڈیکلریشن پر دستخط کریں گے۔

مالٹا ڈیکلریشن میں زور دیا گیا ہے کہ بحیرہ روم سے بچائے جانے والے مہاجرین کو دیگر رکن ریاستوں میں تقسیم کیا جائے کیونکہ یہ لوگ اس سمندری راستے کے ذریعے اٹلی یا مالٹا ہی پہنچتے ہیں یا امدادی ٹیمیں ان مہاجرین کو سمندر سے ریسکیو کرتے ہوئے انہی ممالک ہی لا سکتی ہیں۔ اگر ان مہاجرین کو دیگر رکن ریاستوں میں منتقل نہیں کیا جائےگا تو اٹلی اور مالٹا پر دباؤ زیادہ بڑھ جائے گا۔

مالٹا ڈیکلریشن میں نہ تو کوئی کوٹہ سسٹم واضح کیا گیا ہے اور نہ ہی ایسی ریاستوں کے لیے کوئی سزا، جو رضاکارانہ طور پر ان مہاجرین کو لینے کے لیے تیار نہیں ہوں گی۔ اس منصوبے میں اس  بارے میں بھی کوئی بات نہیں کی گئی ہے کہ اقتصادی مقاصد کی غرض سے یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کو واپس ان کے آبائی ممالک روانہ کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔

یورپی کمیشن نے اس منصوبے کو اہم قرار دیا ہے کیونکہ ابھی تک اس بارے میں فیصلہ نہیں کیا گیا کہ سمندروں سے بچائے جانے والے مہاجرین کو کون سے ممالک پناہ دیں گے۔ مہاجرین کا بحران اب بھی یوپی یونین میں ایک حساس موضوع تصور کیا جاتا ہے۔

سن دو ہزار پندرہ میں جب یہ بحران شروع ہوا تھا تو مہاجرین کا ایک سمندر یورپ میں داخل ہو گیا تھا۔ اگرچہ اب اس بحران کی شدت میں کمی پیدا ہو چکی ہے لیکن یورپی رہنما اس معاملے پر کافی محتاط ہیں۔

ع ب / ع ا / خبر رساں ادارے

DW.COM