ماحول کے لیے نقصان دہ گیسوں کا نیا ریکارڈ | سائنس اور ماحول | DW | 24.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

ماحول کے لیے نقصان دہ گیسوں کا نیا ریکارڈ

 توقع تھی کہ کورونا لاک ڈاؤن سے ماحول کو تباہ کرنے والی گیسوں کے اخراج میں نمایاں کمی آئے گی۔ لیکن اقوام متحدہ کے مطابق بظاہر ایسا نہ ہوا۔

سن 2019 میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا ایک نیا ریکارڈ قائم ہوا۔ اس سال کورونا کے باعث توقع تھی کہ کرہ ارض کو کچھ تازہ ہوا میں سانس لینے کا موقع ملے گا۔ لیکن ماحولیاتی ماہرین کے مطابق بعض ملکوں میں عارضی لاک ڈاؤن کے باوجود دنیا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی نقصان دہ گیسوں کے اخراج کا بڑھتا گیا ہے۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ عمومی طور پر قدرتی ایندھن (کوئلہ، لکڑی، پٹرول اور قدری گیس) کے استعمال سے پیدا ہوتی ہے۔  
 
کاربن ڈائی آکسائیڈ

عالمی موسمیاتی ادارے (ورلڈ میٹیو رولوجیکل آرگنائزیشن) یا ڈبلیو ایم او کے مطابق سن 2019 میں اس مضر گیس کا اخراج گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ رہا۔ عالمی موسمیاتی ادارے کے سیکرٹری جنرل پروفیسر پیٹیری تالاس کا کہنا ہے کہ اس گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں سن  2015 سے مسلسل اضافہ جاری ہے، جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ 
انہوں نے اقوام متحدہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اس رجحان کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کریں۔
 
لاک ڈاؤن، کوئی خاص فرق نہیں پڑا

ڈبلیو ایم او کے مطابق کورونا وبا کے دوران لاک ڈاؤن، سرحدوں کی بندش، پروازوں کی منسوخی اور دیگر پابندیوں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ سمیت دوسری ضرر رساں گیسوں کے اخراج میں کچھ کمی ہوئی لیکن اس کا بہت زیادہ اثر نہیں ہوا۔ 
اس سال وبا کے عروج کے مہینوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے روزانہ اخراج میں اوسطاً سترہ فیصد کمی دیکھی گئی۔ لیکن ادارے کا کہنا ہے کہ وبا کے باوجود صنعتی سرگرمیوں میں خاطر خواہ کمی نہیں ہوئی اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سلسلہ جاری رہا۔
ورلڈ میٹیورولوجیکل آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل پیٹری تالاس نے ضرر رساں گیسوں کے اخراج میں اس عارضی کمی کو "سمندر میں قطرہ" قرار دیا ہے۔ ادارے کے مطابق کورونا وبا کے باعث توقع ہے کہ اس سال آلودگی پھیلانے والی گیسوں کے اخراج میں 4.2 سے  7.5 فیصد تک کی کمی آئے گی۔ لیکن ان کے مطابق اس کا ماحول میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کی نقصان دہ سطح پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔
ع ح، ش ج (روئٹرز، ڈی پی اے)