ماحول دوست فضائی سفر بہت مہنگا ہو گا | سائنس اور ماحول | DW | 24.10.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

ماحول دوست فضائی سفر بہت مہنگا ہو گا

دنیا کو اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کا سامنا ہے۔ ہوا بازی کی صنعت بھی اب ماحول دوستی کی جانب راغب ہو رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ماحول دوست فضائی سفر معمول سے بہت مہنگا ہو جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید دباؤ  کی وجہ سے جہاز سازی  کی صنعت بھی ماحول دوستی کی جانب مائل ہو رہی ہے۔ اس مناسبت سے ایسے ہوائی جہاز بنانے کے لیے تجربات کیے جا رہے ہیں، جن سے سبز مکانی گیسوں کا اخراج کم ہو گا۔

نائن الیون حملوں نے فضائی سفر کو کیسے بدلا: سکیورٹی زیادہ، پرائیویسی کم

ان تجربات پر ہوا بازی کی صنعت کو اربوں ڈالر خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحول دوست ہوائی جہازوں پر بہت زیادہ لاگت آئے گی اور مستقبل میں ایک مرتبہ پھر ہوائی سفر امیر و کبیر افراد کے لیے وقف ہو کر رہ جائے گا۔

Flugbegleiterinnen Fluggesellschaft Alitalia Airline

کورونا وبا کی وجہ سے کئی ہوائی کمپنیوں کے دیوالیہ ہونے کے بھی قوی امکانات موجود ہیں

ایوی ایشن انڈسٹری پر بڑھتا دباؤ

یورپی یونین بھی اس شعبے پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے۔ اب یورپی یونین نے ہوائی سفر کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن پر ٹیکس لگانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ دنیا بھر کی ایئر انڈسٹری نے سن 2050 تک ماحول دوست ٹیکنالوجی کے حامل کمرشل ہوائی جہاز متعارف کرانے کے عزم کا اظہار کر رکھا ہے۔

انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) کی رکن ہوائی کمپنیوں کی تعداد دو سو نوے ہے اور یہ بیاسی فیصد عالمی ٹریفک کی مالکان ہیں۔ اس ادارے نے ایک تخمینہ لگایا ہے کہ ماحول دوست کمرشل ایئر لائنز پر ڈیڑھ ٹریلین ڈالر سے زائد کا خرچہ آ سکتا ہے۔

Junge Frau, die Tablet im Flugzeug verwendet

ماحول دوست ہوائی سفر کا خواب مستقبل میں حقیقت کا روپ دھارنے والا ہے

ایاٹا کی ترجیح

انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) یا ایاٹا کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ غیر روایتی ایندھن کے استعمال کی تمام کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوں گی۔ تنظیم کے مطابق اس وقت مختلف امکانات پر تحقیق  کی جاری ہے اور ان میں کوکنگ آئل اور ایلگا وغیرہ کا استعمال بھی شامل ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح ہوائی سفر بہت مہنگا ہو جائے گا جب کہ ضرورت اس کی ہے کہ موجودہ کرایوں میں اتنی کمی لائی جائے کہ ہر ایک فرد سفر کرنے کے قابل ہو۔

مستقبل میں صرف تین گھنٹے میں دنیا کے کسی بھی کونے میں

فرانسیسی وزیر صحت ژاں باپٹیسٹ جباری کا کہنا ہے کہ توانائی اور ماحولیاتی تبدیلی کے اس عمل میں ہر ایک کو اپنا حصہ ڈالنا ہو گا اور اس میں ہوائی کمپنیوں سے لے کر گاہک یا مسافر بھی شامل ہونے چاہییں۔

جباری کے مطابق کچھ مدت کے لیے فضائی کرایوں میں اضافہ یقینی ہے لیکن پھر اس میں فرق پڑنا شروع ہو جائے گا۔ ان کے مطابق کورونا وبا کی وجہ سے کئی ہوائی کمپنیوں کے دیوالیہ ہونے کے بھی قوی امکانات موجود ہیں۔

Namibia Wirtschaft Luftfahrt

اندازوں کے مطابق مستقبل میں ایک مرتبہ پھر ہوائی سفر امیر و کبیر افراد کے لیے وقف ہو کر رہ جائے گا

 قیمتوں اضافہ، ایک بڑی تبدیلی

مبصرین کے مطابق ماحول دوست ایندھن کا استعمال اس شعبے میں انتہائی اہم تبدیلی کا باعث ہونے کے علاوہ ایئر لائنز انڈسٹری کو تہ و بالا کر سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ماحول دوست فیول کی وجہ سے متوسط طبقہ بھی ہوائی سفر کرنے کا اہل نہیں رہے گا۔ ایسے اندازے لگائے گئے ہیں کہ فضائی پروازیں بھی کم ہو  جائیں گی۔

دبئی ایک مرتبہ پھر دنیا کا مصروف ترین ہوائی اڈہ

انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن  کو توقع ہے کہ سن 2050 میں فضائی پروازوں کا حجم دس بلین تک پہنچ سکتا ہے۔ ایئر انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت ہوائی جہازوں کے کرایوں میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے اور اس کی وجہ کورونا وبا سے خسارے کو کم کرنا ہے۔

ع ح ع ا (اے ایف پی)