ماحولیاتی تبدیلیاں، پاکستان دنیا کا پانچواں متاثرہ ترین ملک | سائنس اور ماحول | DW | 05.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

ماحولیاتی تبدیلیاں، پاکستان دنیا کا پانچواں متاثرہ ترین ملک

ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان اور اس کے عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

عالمی ادارے جرمن واچ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں پاکستان کو ان ممالک میں شمار کیا ہے، جو ماحولیات سے بری طرح متاثر ہیں۔ 'گلوبل کلائیمیٹ رسک انڈیکس 2020‘ کے مطابق سن 1999 سے لے کر سن 2018 تک کے بیس برسوں کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں سے جو ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوئے، پاکستان ان میں پانچویں نمبر پر ہے۔

 لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار احسن رضا کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی حوالے سے ماضی کی غیر دانشمندانہ پالیسیوں نے ملک میں اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت اس معاملے میں قدرے بہتر ہے، '' اگر خیبرپختونخوا میں ایک ارب درخت نہ بھی لگے ہوں۔ اگر یہ اس کے آدھے بھی ہوں، تب بھی یہ بہت بہتر ہے۔ اس کے علاوہ حکومت مزید دس ارب درخت لگانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی جگہ الیکٹرک کاریں  درآمد کرنے کا فیصلہ بھی بہت بہتر ہے۔ لیکن ان کے علاوہ بھی حکومت کو بہت سارے اقدامات کرنے ہوں گے۔‘‘

کئی ماہرین کا خیال ہے کہ عالمی حدت کی وجہ سے ملک کے شمال میں پگھلتے ہوئے گلشیئر ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ ماہر ماحولیات ڈاکڑ پرویز امیر کا کہنا ہے پاکستان کو اس وقت چار بڑے خطرات کا سامنا ہے، ''گلشیئرز کا پگھلنا، کوئلے کا استعمال، اسموگ اور خشک سالی۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ''کئی ساحلی علاقوں سے نقل مکانی پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔ اوماڑہ، پسنی، بدین، ٹھٹھہ، سجاول اور گوادر سمیت کئی علاقوں سے نقل مکانی ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی علاقے خشک سالی کے شکار بھی ہوئے ہیں۔ یہ عوامل فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔‘‘

لاہور سے تعلق رکھنے والے ماحولیاتی کارکن سلمان بشیر کے خیال میں جنگلات کا کٹاؤ فوری طور پر رکنا چاہیے، ''بین الاقوامی معیار کے مطابق پاکستان کے تقریبا پچیس فیصد رقبے پر جنگلات ہونے چاہییں لیکن ہمارے ملک میں پہلے ہی جنگلات صرف سات سے آٹھ فیصد رقبے پر تھے لیکن یہ رقبہ اب تین فیصد مزید کم ہو گیا ہے۔‘‘

کئی ماہرین کا خیال ہے کہ ملک کا جنوبی حصہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے فشر فورک فورم کے رہنما محمد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اس مسئلے پر کسی حکومت نے توجہ نہیں دی، ''سندھ میں دو لاکھ ستر ہزار ہیکٹرز پر مشتمل ساحلی جنگلات اب ستر ہزار ہیکٹرز تک آ گئے ہیں۔‘‘