ماحولیاتی تبدیلیاں، سمندروں کی سطح بلند ہونے سے شدید خطرات | سائنس اور ماحول | DW | 09.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ماحولیاتی تبدیلیاں، سمندروں کی سطح بلند ہونے سے شدید خطرات

امریکی محققین کے ایک گروہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی درجہ حرارت میں موجودہ رفتار سے اضافہ ہوتا رہا تو سمندروں کی سطح بلند ہونے کے نتیجے میں جلد ہی تقریبا چھ سو ملین افراد متاثر ہو جائیں گے۔

default

سمندر کی سطح بلند ہونے سے ساحلی علاقے زیر آب آ جائیں گے

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ’کلائمٹ سینٹرل‘ نامی امریکی محققین کے گروپ کے حوالے سے بتایا ہے کہ عالمی درجہ حرات میں چار سینٹی ڈگری گریڈ کی رفتار سے اضافہ انتہائی خطرناک ثابت ہو گا، اس لیے اس حوالے سے فوری اقدامات انتہائی ضروری ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ عالمی درجہ حرات میں اضافے کے سبب سمندوں کی سطح میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ساحلی علاقوں میں بسنے والے انسانوں کو نقل مکانی کرنا پڑ سکتی ہے۔ ایسے خطرات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ نیو یارک سے لے کر شنگھائی تک اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

سمندری سطح کے بلند ہونے کے باعث ساحلی علاقے پانی میں ڈوب جائیں گے اور یوں وہاں بسنے والے لوگوں کا روزگار بھی متاثر ہو جائے گا۔ ’کلائمٹ سینٹرل‘ کی طرف سے پیر کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سمندری سطح بلند ہونے کے نتیجے میں سب سے زیادہ چین متاثر ہو گا، جہاں 145 ملین افراد سمندروں کے کنارے آباد ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چین کے یہ ساحلی علاقے مکمل طور پر پانی میں ڈوب سکتے ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کو روکنے کی خاطر عالمی طاقتیں کوششوں میں مصروف ہیں۔ عالمی رہنما تیس نومبر سے پیرس میں شروع ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں اس حوالے سے ایک متفقہ حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کریں گے۔ خبردار کیا گیا ہے کہ اگر عالمی طاقتیں عالمی درجہ حرارت کو دو سینٹی گریڈ تک محدود کرنے پر متفق ہو بھی جائیں تو بھی سمندری سطح میں مسلسل اضافے کے سبب 280 ملین انسانوں کے آبائی گھر پانی میں ڈوب جائیں گے۔

اسی حوالے سے عالمی بینک نے بھی اتوار کے دن ایک رپورٹ جاری کی، جس کے مطابق اگر عالمی برداری نے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر کسی حکمت عملی پر اتفاق نہ کیا تو 2030ء تک سو ملین سے زائد اضافی انسان غربت کا شکار ہو جائیں گے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے زیادہ تر متاثر ہونے والے غریب ہی ہوتے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق پیرس سمٹ میں عالمی رہنماؤں کو دنیا کو بچانے کے لیے فوری اقدامات پر متفق ہونا پڑے گا۔

تیس نومبر سے گیارہ دسمبر تک جاری رہنے والی اقوام متحدہ کی پیرس سمٹ میں سو سے زائد ممالک کے سربراہان حکومت و مملکت شریک ہوں گے۔ ان میں امریکی اور چینی صدور کے علاوہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن بھی شامل ہوں گے۔ کانفرنس آف پارٹیز (COP21) نامی اس سمٹ میں عالمی ادارے کے سربراہ بان کی مون کی کوشش ہو گی کہ اس تناظر میں ایک عالمی ڈیل طے پا جائے۔

Deutschland Gelsenkirchen Kohlekraftwerk Symbolbild Klimawandel CO2

ضرر رساں گیسیں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی ذمہ دار تصور کی جاتی ہیں

اس ڈیل کے لیے ضروری ہے کہ مختلف ممالک کوئلے، ایندھن اور گیس کے استعمال سے پیدا ہونے والی سبز مکانی گیسوں کے اخراج میں کمی کا عہد کریں۔ یہ ضرر رساں گیسیں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی ذمہ دار تصور کی جاتی ہیں۔

تاہم اقوام متحدہ نے گزشتہ ہفتے کے دوران ہی خبردار کیا کہ مختلف ممالک کی طرف سے ضرر رساں گیسوں کے اخراج کی کمی کے حوالے سے جو مںصوبہ جات پیش کیے گئے ہیں، وہ عالمی درجہ حرارت میں مطلوبہ کمی کے حوالے سے ناکافی ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ ترقی پذیر ممالک اور ترقی یافتہ ممالک کے مابین اس حوالے سے اختلافات موجود ہیں۔