لیہ کو چین میں دکھانے پر بھارت کی ٹویٹر کو سخت وارننگ | حالات حاضرہ | DW | 23.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

لیہ کو چین میں دکھانے پر بھارت کی ٹویٹر کو سخت وارننگ

بھارت نے ٹویٹر کو بھارتی خطہ لداخ کو چین میں دکھانے پر متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے غلط نقشہ قطعی منظور نہیں ہے۔ اس دوران بھارتی پارلیمانی کمیٹی نے فیس بک اور ٹویٹر جیسی کمپنیوں کو وضاحت کے لیے طلب کیا ہے۔

بھارت نے متنازعہ خطہ لداخ کے مرکزی شہر لیہ کو چین میں دکھانے پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی کو ''بھارتی عوام کے احساسات کا خیال رکھنا چاہیے۔'' بھارت نے اس سلسلے میں ٹویٹر کے سربراہ کے نام اپنے ایک مکتوب میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ کمپنی کو لداخ سے متعلق اپنے نقشے کو فوری طور پر درست کرنے کی ضرورت ہے۔

ٹویٹر نے اپنی لوکیشن سیٹنگ میں خطہ لداخ کے مرکزی شہر لیہ کو چین میں دکھایا تھا۔ لیہ شہر سے ایک براہ راست نشریاتی پروگرام کے دوران اس کے جیو ٹیگنگ فیچر میں لیہ ''جموں اینڈ کشمیر،  پیپلز ریپبلک آف چائنا'' کے نام سے دکھائی دے رہا تھا۔ اس پر سوشل میڈیا کے بہت سے بھارتی صارفین نے بھی اعتراض کیا تھا جس کے بعد بھارتی حکومت نے بطور احتجاج ٹویٹر کے سربراہ جیک ڈروزی کے نام ایک خط تحریر کیا۔

بھارت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت میں سکریٹری اجے سہوانی نے ٹویٹر کے سربراہ کے نام اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ ''بھارت کی خود مختاری اور اس کی سالمیت کے ساتھ توہین، جو اس کے نقشے سے صاف ظاہر ہوتی ہے،  کی کوئی بھی کوشش قطعی قابل قبول نہیں ہے۔''

بھارتی میڈیا کے مطابق اس خط میں سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسی کوششیں نہ صرف ٹویٹر کی بدنامی کا سبب بنتی ہیں بلکہ غیر جانبداری سے متعلق اس کی متوازن پالیسیوں اور انصاف پسندی کے بارے میں بھی سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ لداخ اور جموں و کشمیر بھارت کا جز لاینفک اور اٹوٹ حصہ ہیں جن پر بھارتی آئین کی اجارہ داری ہے۔''

ویڈیو دیکھیے 03:48

دریائے سندھ جہاں سے شروع ہوتا ہے

بھارت نے اپنے خط میں، لداخ سے متعلق جو نقشہ پیش کیا گیا اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک غلط نقشے کی عکاسی ہے اور ٹویٹر کو چاہیے کہ ''وہ بھارتی عوام کے جذبات کی قدر کرے۔''  ٹویٹر نے بھی اس خط کے موصول ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ وہ بھارتی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے اور کمپنی اس حوالے سے عوامی جذبات کا احترام کرتی ہے۔

بھارتی حکومت نے گزشتہ برس سابقہ ریاست جموں و کشمیر کے دور افتادہ علاقے خطہ لداخ کو کشمیر سے الگ کر دیا تھا اور دونوں علاقوں کا ریاستی درجہ ختم کر کے انہیں مرکز کے زیر انتظام دوعلاقوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ خطہ لداخ دو اضلاع کرگل اور لیہ پر مشتمل ہے اور لیہ لداخ کا مرکزی شہر مانا جاتا ہے۔ خطہ کشمیر اور لداخ بھارت، چین اور پاکستان کے درمیان متنازعہ علاقے ہیں۔

بھارت نے لداخ سے متعلق متنازعہ نقشے کے سوال پر ایک ایسے وقت آواز اٹھائی ہے جب لداخ میں لائن آف ایکچؤل کنٹرول پر بھارت اور چین کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے حالات کشیدہ ہیں۔ فریقین میں اس برس اپریل کے ماہ میں تنازعہ شروع ہوا تھا اور تب سے سفارتی اور فوجی سطح پر کئی دور کی بات چیت کے بعد بھی کشیدگی کم نہیں ہوئی ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں فریقین نے دونوں جانب سے ہوا میں فائرنگ کا بھی اعتراف کیا تھا۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں جانب سے 100 سے دو سو راؤنڈ ہوا میں فائرنگ ہوئی جس کا مقصد ایک دوسرے کو مرعوب کرنا تھا۔ اس سے قبل 15 جون کی درمیانی شب وادی گلوان میں دونوں فوجوں کے درمیان تصادم میں بھارت کے 20 فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

ویڈیو دیکھیے 04:24

بدھ اور مسلم تہذيبوں سے آرستہ لداخ

ویب سائٹوں کی پارلیمان کے سامنے طلبی 

اس دوران بھارتی پارلیمان کی مشترکہ کمیٹی نے بھارتی عوام کے ڈیٹا اور ان کی پرائیویسی کے تحفظ پر بات چیت کے لیے فیس بک اور ٹویٹر کے حکام کو طلب کیا ہے۔ بھارت نے گزشتہ برس 'پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن' بل متعارف کیا تھا اور اسی کے تحت ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے سکریٹریٹ نے انہیں نوٹس جاری کیا ہے۔

اس مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی صدر بی جے پی کی رکن پارلیمان میناکشی لیکھی ہیں اور اطلاعات کے مطابق فیس بک کے حکام سے بات چیت کے لیے انہیں جمعہ 23 اکتوبر کو کمیٹی کے سامنے طلب کیا گیا ہے۔ اسی معاملے میں ٹویٹر کے حکام کو الگ سے 28 اکتوبر کو پیش ہونے کو کہا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ڈیٹا پروٹیکشن کے سوال پر جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی نے گوگل اور آمیزون جیسی کمپنیوں کو بھی طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل ایک سینیئر مرکزی وزیر نے فیس بک ملازمین پر ایک خاص نظریہ کی حمایت کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مارک زکر برگ کے نام ایک خط لکھ کر شکایت کی تھی۔

حکومت کا الزام ہے کہ فیس بک کے بیشتر ملازم اس سیاسی جماعت کے نظریے کی حمایت کرتے ہیں جو انتخابات میں مسلسل نا کام ہوتی رہی ہے۔ اس کا الزام ہے کہ سوشل میڈیا پر بھارتی وزیر اعظم کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔  لیکن اس سے پہلے بھارت میں فیس کے ملازمین نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ فیس بک اپنے تجارتی مفاد ات کی خاطر سائٹ پر نفرت انگیز مواد کی اشاعت کی اجازت دیتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت اور اہل اقتدار طویل عرصے سے اپنے سیاسی مفاد کے لیے فیس بک پر نفرت انگیز مواد کی خوب تشہیر کرتے رہے ہیں اور فیس بک کے اعلی حکام سب کچھ جانتے ہوئے بھی محض تجارتی فائدے کے لیے اس سے چشم پوشی کرتے رہے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 04:16

کشمیر: کیا ایل او سی پر بسے گاؤں کے حالات بدل جائیں گے؟

DW.COM