لیکن وہ جرمن قوم کو تقسیم نہ کر سکے | دستک | DW | 03.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

لیکن وہ جرمن قوم کو تقسیم نہ کر سکے

قریب چوالیس سال منقسم رہنے کے بعد جرمنی کا اتحاد عمل میں آنا عصری تاریخ کا ایک ایسا واقعہ مانا جاتا ہے، جس نے براعظم یورپ کی شکل ہی تبدیل کر دی۔ جرمن اتحاد کی انتیسویں سالگرہ کی تقریبات کا موٹو ہے ’ہمت جوڑ سکتی ہے‘۔

لیکن یہ جذبہ دیگر خطوں میں کیوں نہیں پایا جاتا؟ ایک ایسے وقت میں، جب دنیا کے مختلف خطوں میں وحشت، انتہا پسندی، ظلم و جبر، تسلط کی دوڑ اور استحصال کا دور دورہ ہے، یورپ کا ایک ایسا ملک، جس کی تاریخ جنگ و جدل اور شکست و ریخت سے عبارت رہی ہے، اپنے اتحاد کی سالگرہ منا رہا ہے۔ وہ بھی اس موٹو کے تحت کہ ' ہمت جوڑ سکتی ہے‘ ۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اس ملک کے نا صرف دو ٹکڑے ہوئے تھے، جنہیں مشرقی اور مغربی جرمنی کا نام دیا گیا تھا، بلکہ اس کے موجودہ دارالحکومت برلن کو تو چار زونز میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ برلن ہمیشہ سے یورپ کے قلب کی حیثیت رکھتا ہے۔ برلن کے ٹکڑے کرنے والوں نے دراصل یورپ کے قلب پر وار کیا تھا۔

سیاست اور تسلط کے دائرے کو وسیع تر کرنے کا جنون دلوں میں تفرقے پیدا کر کے قوموں اور ملکوں کو جغرافیائی طور پر توڑنے اور ان کے درمیان مصنوعی خلیج یا دیوار کھڑی کر دینے کی حد تک چلا جاتا ہے۔ جرمنی کا جہاں تک تعلق ہے، دوسری عالمی جنگ کے بعد جغرافیائی طور پر تو اسے تقسیم کرنا عالمی طاقتوں کے لیے اُس وقت ممکن تھا اور انہیں اُس وقت اس پر قدرت بھی حاصل تھی کہ اس مضبوط ملک کو لخت لخت کر دیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ جرمن قوم کے ٹکڑے یا اسے تقسیم نہیں کر سکے۔ جرمنی کی تقسیم مصنوعی تھی، یہی وجہ ہے کہ یہ تقسیم پائیدار ثابت نہ ہو سکی۔ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک دو حصوں میں بٹی ہوئی قوم کو جب متحد ہونے کا موقع ملا تو راتوں رات مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی کا نقشہ ہی بدل گیا۔

اُس وقت جرمن ڈیمو کریٹک ریپبلک جی ڈی آر کی حکمران جماعت ایس ای ڈی تھی، جسے انگریزی میں ایسٹ جرمن کمیونسٹ پارٹی کہا جاتا ہے۔ ایس ای ڈی کے سکریٹری جنرل ایرک ہونیکر نے جنوری 1989ء میں ایک بیان میں کہا تھا،''دیوار پچاس برس کیا، سو برس بعد بھی قائم رہے گی‘‘۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کی سیاسی بصیرت اُس حقیقت کو دیکھنے سے قاصر تھی، جس کے سبب تاریخ کا یہ اپنی طرز کا ایک مثالی واقعہ چند ماہ کے اندر اندر رونما ہو گیا۔ جرمن اتحاد اور دیوار برلن کا انہدام نہ صرف ایرک ہونیکر اور اُن کے ساتھیوں بلکہ پوری دنیا کے لیے اچنبے کا باعث بنا۔

میں جرمنی بحیثیت طالبعلم اسی تجسس میں آئی تھی کہ اپنی آنکھوں سے جرمن قوم کی اس کامیابی کے مظہر دیکھ سکوں اور تاریخ کے اس اہم باب پر تحقیق کر سکوں۔ اتفاق سے میں نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے انتخاب ایک ایسی یونیورسٹی کا کیا جو نہ صرف جرمنی کی معیاری جامعات میں شمار ہوتی ہے بلکہ یہ برلن کے ایک ایسے مقام میں واقعے  ہے، جو معروف زمانہ برلن وکٹری ٹاور اور مشرقی اور مغربی برلن کے سنگم پر قائم ہے، یعنی 'ہمبولڈ یونیورسٹی‘ ۔ میں نے ان گنت جرمن باشندوں سے گفتگو کی اور اُن سے جرمنی کے اتحاد کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ میں یہ جاننا چاہتی تھی کہ آخر وہ کونسی قوت تھی، جو بے حد مضبوط ستونوں پر کھڑی دیوار کو توڑ دینے کا سبب بنی۔ مجھے زیادہ تر جرمنوں کے بیانات نے اسی فقرے کا قائل کر دیا، جو جرمنی کے اتحاد کی انتیسویں سالگرہ کے موقع پر اس بار کا موٹو ہے: 'ہمت جوڑ سکتی ہے‘۔

دوسری جانب میں جب اُس خطے پر نظر ڈالتی ہوں، جس سے میرے آباء و اجداد کا تعلق ہے تو مجھے سوائے یاس و نا اُمیدی کے جذبوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ جنوبی ایشیائی خطے میں یوں تو متعدد سیاسی اور جغرافیائی تنازعات موجود ہیں، جنہوں نے کئی عشروں کے دوران پروان چڑھنے والی کئی نسلوں کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ میں یہاں محض اُن چند مسائل کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کروانا چاہتی ہوں، جن کے سبب پورے خطے میں خوف و ہراس، بدامنی، وحشت، نفرت، انسانیت کی تذلیل اور ان کے بنیادی حقوق کی پامالی کے سائے پھیلے ہوئے ہیں۔

مسئلہ کشمیر، روہنگیا اور ہزارہ نسل سے تعلق رکھنے والے باشندوں کے ساتھ ہونے والا سلوک، مذہب اور فرقہ واریت کے نام پر لخت لخت ہوئی قومیں روز بروز تاریکی میں ڈوبتی دکھائی دے رہی ہے۔ ان سب کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا متاثرہ قوموں میں ہمت کا فقدان ہے، کیا ان قوموں کی قسمت کا فیصلہ کرنے والوں نے عصری تاریخ کے واقعات سے کچھ نہیں سیکھا؟ اگر کسی مغربی ملک کو 'ہمت جوڑ سکتی ہے‘ تو کیا تاریخ کی کایہ کسی مشرقی ملک میں بھی اسی طرح نہیں پلٹ سکتی؟