لیبیا کی نئی یونٹی حکومت مشکلات سے دوچار | حالات حاضرہ | DW | 07.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کی نئی یونٹی حکومت مشکلات سے دوچار

طرابلس پر کنٹرول رکھنے والی ملیشیا نے نئی یونٹی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اِس طرح اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ یونٹی حکومت کو لیبیا کے دارالحکومت میں اختیارات سنبھالنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

default

فیاض السراج

لیبیا کے مرکزی شہر طرابلس پر تصرف رکھنے والی ملیشیا نیشنل سالویشن کے سربراہ اور غیر تسلیم شدہ وزیراعظم خلیفہ الغویل نے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ یونٹی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کے علاوہ اپنے انتظامی کنٹرول کو ختم نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ الغویل نے اپنی ملیشیا کے اراکین کے نام پیغام میں واضح کیا کہ کوئی ایک فرد بھی نئی یونٹی حکومت کے ساتھ معاملات طے کرے گا تو وہ سزا کا حقدار ہو گا۔ ملیشیا لیڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ عوامی مفاد کے تناظر میں تمام حکومتی کارندوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ قانون کے تحت اپنے اپنے منصب پر فائز رہتے ہوئے انتظامی معاملات آگے بڑھاتے رہیں۔

اقوام متحدہ کی یونٹی حکومت کے قیام کے وقت خلیفہ الغویل نے اِس کی تائید کی تھی اور واضح کیا تھا کہ اِس حکومت کے وزیراعظم جب طرابلس پہنچیں گے تو شہر پر وہ اپنا غلبہ اُن کے حوالے کر دیں گے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ نیشنل سالویشن ملیشیا نے یونٹی حکومت کے وزیراعظم فیاض السراج کی حکومت کی حمایت جاری رکھنے سے ہاتھ کیوں کھینچا ہے۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اِس ملیشیا میں دھڑے بن گئے ہیں اور ایک گروپ طرابلس پر کنٹرول چھوڑنے پر راضی نہیں ہے۔

Libyen Tripolis Khalifa Al-ghwell

خلیفہ الغویل

خلیفہ الغویل کے تازہ بیان نے اقوام متحدہ کے امن پلان کو تقریباً پٹری سے اتار دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اقوام متحدہ کے لیبیا کے لیے مقرر خصوصی مندوب مارٹن کوبلر سلامتی کونسل کو یونٹی حکومت کے قیام کے بارے اپنی رپورٹ پیش کرنے والے تھے۔ ابھی تک الغویل کے پیچھے ہٹنے پر عالمی حمایت یافتہ وزیراعظم فیاض السراج نے بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ طرابلس پہنچنے کے بعد السراج نے لیبیا کے مالیاتی اداروں پر کنٹرول ضرور حاصل کر لیا ہے۔

السراج کی حکومت گزشتہ برس دسمبر میں لیبیا کی اراکین پارلیمنٹ کی منظوری سے قائم کی گئی تھی۔ بعد میں کابینہ کے ناموں پر اتفاق نہ ہونے پر حکومت کے حتمی قیام میں تاخیر ہوتی چلی گئی تھی۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے طرابلس پہنچ کر بحریہ کے زیرنگرانی علاقے میں اپنا ہیڈکوارٹر قائم کر ليا ہے۔ خلیفہ الغویل نے طرابلس شہر اور گرد و نواح کے علاقوں کا کنٹرول سن 2014 کے وسط میں سنبھالا تھا۔ اُن کے غلبے کو عسکری طور پر اگر یونٹی حکومت چیلنج کرتی ہے تو طرابلس شہر میں پرتشدد حالات پیدا ہو جانے کے قوی امکانات کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

اشتہار