لیبیا کی بری فوج کے سربراہ مستعفی | حالات حاضرہ | DW | 10.06.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کی بری فوج کے سربراہ مستعفی

لیبیا میں بری فوج کے سربراہ نے اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا ہے۔ لیبیا کے سیاسی ذرائع نے بتایا کہ فوج کے سربراہ نے بن غازی میں بدامنی کے واقعے میں 31 افراد کی ہلاکت کے بعد اپنے عہدے سے الگ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

لیبیا میں سابق رہنما معمر قذافی کے خلاف لڑنے والے جنگجو گروپ اب طرابلس حکام کے لیے ایک مسئلہ بن چکے ہیں۔ گزشتہ اختتام ہفتہ پر شہر بن غازی مظاہرین اور جنگجو گروپ ’شیلڈ آف لیبیا‘ یعنی لیبیا کی ڈھال کے مابین شدید تصادم ہوا۔ خبر رساں ادارے لانا کے مطابق اس واقعے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر اکتیس ہو گئی ہے جبکہ 55 افراد زخمی ہیں۔ یوسف المنغوث نےمستعفی ہونے کا اعلان فوج کے ایک اعلی یونٹ کی جانب سے اسی حکومت نواز ملیشیا کی عمارت پر قبضے کے بعد دیا۔ لیبیا کی ڈھال نامی یہ گروپ فوج کے ساتھ علاقے میں امن و امان قائم رکھنے میں معاونت کرتا ہے۔

Symbolbild Libyen Flagge

لیبیا کے وزیراعظم علی زیدان نے اس واقعے کو افسوس ناک قرار دیا ہے

اس دوران ہفتے کے روز مظاہرین نے اس گروپ کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا۔ مظاہرین مطالبہ کر رہے تھے کہ بن غازی میں سلامتی کے تمام تر معاملات لیبیا کی ڈھال سے لے کر ملکی سکیورٹی فورسز کے حوالے کیے جائیں۔ کئی فوجی افسران اس سے قبل بھی یوسف المنغوث کے خلاف احتجاج کر چکے ہیں۔ انہوں نے فوجی سربراہ پر بدعنوانی اور ملیشیا گروپوں کو قابو میں کرنے میں ناکام رہنے پر الزامات عائد کیے تھے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا جارہا ہے کہ المنغوث کی کمزور شخصیت کی وجہ سے کئی جنگجو گروپ ان کے حامی تھے اور وہ چاہتے تھے کو فوج کی سربراہی انہیں کے ہاتھوں میں رہے۔

فوج کے خصوصی یونٹ ’سقہ‘ نے بن غازی میں شیلڈ آف لیبیا کے ہیڈ کوارٹر کی عمارت کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران سقہ کے پانچ اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب فوج کے دیگر یونٹس نے اس جنگجو گروپ کے دیگر تین مراکز پر قبضہ کر لیا۔ حکومت نواز ملیشیا کی جانب سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ لیبیا کے وزیراعظم علی زیدان نے اس واقعے کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔

ai /zb (afp)