لیبیا کا صدارتی الیکشن: معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام صدارتی امیدوار | حالات حاضرہ | DW | 14.11.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

لیبیا کا صدارتی الیکشن: معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام صدارتی امیدوار

خانہ جنگی کے شکار شمالی افریقی ملک لیبیا ميں اگلے ماہ دسمبر میں صدارتی انتخابات ہو رہے ہيں۔ اس الیکشن میں سابق آمر معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام نے بھی بطور امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کرا ديے ہیں۔

رواں برس چوبیس دسمبر کو لیبیا میں صدارتی الیکشن کے لیے ووٹنگ ہو گی۔ یہ انتخابات شیڈیول کے مطابق دس دسمبر سن 2018 کو ہونے تھے لیکن مسلسل مسلح تصادم کی وجہ سے انہيں مؤخر کر دیا گيا۔

 کرنل قذافی کے بیٹے سعدی قذافی جیل سے رہا

چوبیس دسمبر کو تمام امیدوار انتخابی عمل میں شریک ہوں گے اور اگر کوئی اميدوار واضح برتری حاصل کرنے ميں ناکام رہا، تو پھر چوبیس جنوری کو دوسرے مرحلے میں صرف ان دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا، جنہوں نے پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہوں گے۔ لیبیا کے صدارتی الیکشن کو اقوام متحدہ کے مصالحتی عمل کا نقطہ عروج قرار دیا گیا ہے۔

Libyen Sebha | Saif al-Islam al-Gaddafi registriert sich als Präsidenstchaftskandidat

صدارتی الیکشن کے لیے سیف السلام قذافی اپنے نام کا اندراج کراتے ہوئے

ان انتخابات میں سابق مقتول آمر معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی بھی ایک امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے ہیں۔ صدارتی امیدوار کے طور پر انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی اتوار چودہ نومبر کو نیشنل الیکٹورل کمیشن میں جمع کرائے۔ یہ کاغذات قذافی کے بیٹے نے ملک کے جنوبی مغربی شہر سبھا میں جمع کروائے ہیں۔ ان کے صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار شریک ہونے کی تصدیق لیبین الیکشن کمشن کی جانب سے بھی سامنے آئی ہے۔

جنگ زدہ ملک لیبیا میں صوفی ثقافتی مقامات کی تباہی

سیف السلام قذافی

معمر قذافی کے دور میں انہیں اپنے والد کا جانشین تصور کیا جاتا تھا۔ ان کے والد ایک عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے محروم کر دیے گئے تھے۔ والد کے زوال کے بعد سیف السلام کو سن 2011 میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

انہیں پانچ برسوں سے زائد عرصے بعد جون سن 2017 میں رہا کیا گیا۔ ان کی سیاسی وابستگی پاپولر فرنٹ برائے آزادئ لیبیا نامی سیاسی و عسکری گروپ کے ساتھ ہے۔ یہ بنیادی طور پر سابق آمر کے حامیوں کی سیاسی جماعت اور ملیشیا بھی ہے۔

Saif al-Islam Gadhafi

انچاس سالہ سیف السلام قذافی ملکی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں

رواں برس جولائی میں امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے انچاس سالہ سیف السلام قذافی نے ملکی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ وہ اپنے ملک کے گم شدہ اتحاد کو دوبارہ حاصل کرنے کی شدید تمنا رکھتے ہیں۔ ان کی یہ بھی کوشش ہو گی کہ سیاسی طور پر فعال ہو کر اپنے ملک میں سے سیاسی عدم استحکام اور انتشار کا خاتمہ کر سکیں۔ انہوں نے یہ انٹرویو ویڈیو لنک پر دیا تھا۔

لیبیا کے وزیر اعظم فائز السراج مستعفی ہونا چاہتے ہیں

یہ بھی اہم ہے کہ سیف السلام قذافی انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت مطلوب ہیں۔

یاد رہے کہ معمر قذافی نے لیبیا پر چالیس برس سے زائد عرصے تک حکومت کی تھی اور پھر عوامی بیداری کی ایک زوردار مگر پرتشدد تحریک کے دوران انہیں اقتدار چھوڑنا پڑا۔ بعد میں انہیں تلاش کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔

Libyen Gaddafi-Sohn Seif al-Islam angeblich wieder frei

سیف الاسلام قذافی انیس نومبر سن 2011 میں گرفتار ہونے کے بعد

صدارتی الیکشن کے ممکنہ امیدوار

سیف السلام قذافی کے علاوہ ایک اہم امیدوار جنگی سردار خلیفہ حفتر ہیں۔ معمر قذافی کے دور میں ملکی فوج کے ایک سینیئر افسر خلیفہ حفتر اب اپنی مسلح تنظیم لیبین نیشنل آرمی کے کمانڈر اور خود ساختہ فیلڈ مارشل ہیں۔

خلیفہ حفتر کی حامی فورسز طرابلس پہنچ گئیں

صدارتی الیکشن میں قومی معاہدے کے تحت قائم ہونے والی حکومت کے سابق وزیر داخلہ فتحی علی باشاغا کے امیدوار بننے کے بھی امکانات موجود ہیں۔ ان کے علاوہ سابق سفارت کار عارف علی اینائض اور لیبیا کی اسمبلی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر عقیلہ صالح عیسیٰ بھی صدارتی الیکشن میں بطور امیدوار بننے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔

ع ح/ع س (اے ایف پی، اے پی)