لیبیا: وزیر خارجہ کی معطلی کی کوشش ، سیاسی بحران میں اضافہ | حالات حاضرہ | DW | 08.11.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

لیبیا: وزیر خارجہ کی معطلی کی کوشش ، سیاسی بحران میں اضافہ

لیبیا کے وزیر اعظم عبدالحمید دیبہ کا کہنا ہے کہ نئی تشکیل شدہ صدارتی کونسل کو وزیر خارجہ نجلا المنقوش کو معطل کرنے کا حق نہیں ہے۔ اس سے قبل وزیر خارجہ پر ’’انتظامی امور کی خلاف ورزیوں‘‘ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

لیبیا کے وزیر اعظم عبدالحمید دیبہ کے دفتر نے سات نومبر اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس برس فروری میں ملک کی جو نئی صدارتی کونسل تشکیل دی گئی تھی، اسے  وزیر خارجہ نجلا المنقوش سمیت کسی بھی وزیر کو معطل کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

یہ بیان کونسل کے سربراہ محمد المنفی کے اس اعلان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے وزیر خارجہ نجلا المنقوش کو کونسل سے 14 روز کے لیے معطل کرنے اور ان کے سفر پر پابندی عائد کرنے کی بات کی تھی۔ آئندہ جمعے کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں لیبیا کے موضوع پر ایک بڑی کانفرنس ہونے والی ہے جس میں شرکت کے لیے نجلا پیرس جانے والی تھیں۔

ایک ترجمان نجلا واہبہ نے اس سلسلے میں سرکاری ٹی وی پربیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ صدارتی کونسل نے نجلا پر خارجہ پالیسی میں ہم آہنگی نہ برتنے کا الزام عائد کیا ہے اور ان کے خلاف مبینہ’’ انتظامی امور کی خلاف ورزیوں‘‘ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

اس معاملے پر سیاسی ہنگامہ آرائی کے بعد وزیر اعظم دیبہ نے اپنے ایک بیان میں کہا،’’ ایگزیکٹیو برانچ کے ارکان کی نامزدگی، برطرفی، معطلی یا ان پر کسی طرح کی فرد جرم عائد  کرنے جیسے خصوصی اختیارات ۔۔۔۔۔ وزیر اعظم کے پاس ہیں۔‘‘ عبوری حکومت نے نجلا المنقوش کو وزارت خارجہ سے متعلق اپنی تمام ذمہ داریوں کو جاری رکھنے کی ہدایات دیتے ہوئے ان کے کام کی تعریف بھی کی ہے۔

بی بی سی کے ساتھ انٹرویو پر سوالات اٹھے

نجلا المنقوش نے سن 1988 میں ہونے والے لاکربی بم دھماکے کے بارے میں بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران جو باتیں کہی تھیں اسی سے یہ تنازعہ شروع ہوا۔ سن 1988 میں پین ایم جیٹ میں اس وقت دھماکہ ہوا تھا جب یہ مسافر طیارہ اسکاٹ لینڈ کے شہر لاکربی سے پرواز کر رہا تھا، اس میں 270 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ سن 2003 میں لیبیا نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں وزیر خارجہ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ لیبیا بمباری کے مشتبہ افراد کی حوالگی کے لیے امریکا کے ساتھ روابط قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔ بی بی سی کے مطابق، نجلا المنقوش کا اشارہ مبینہ طور پر بم تیار کرنے والے ابو عقیلہ محمد مسعود کی طرف تھا، جو لیبیا کی ایک جیل میں قید ہیں اوراس حملے کے تعلق سے امریکا کو مطلوب بھی ہیں۔

لیبیا کے میڈیا میں اس حوالے سے جو خبریں نشر یا شائع ہوئی ہیں اس میں نجلا المنقوش کو اسی تنازعے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم اس حوالے سے مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

الیکشن  کی گہماگہمی

لیبیا میں صدارتی انتخابات جلدی ہی ہونے والے ہیں اور اس تناظر میں یہ سیاسی تنازعہ وزیر اعظم عبدالحمید دیبہ اور صدارتی کونسل کے سربراہ محمد المنفی کے درمیان اختلافات میں مزید اضافے کا سبب ہو سکتا ہے۔

شمالی افریقی ملک کے مختلف سیاسی حریفوں کے درمیان، انتخابات کی قانونی بنیادوں، امیدواروں کے متعلق اخلاق و ضوابط اور یہاں تک کہ الیکشن کی تاریخ پر بھی شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

حال ہی میں پارلیمنٹ نے اسی کشیدگی کے سبب مقننہ کے انتخابات آئندہ برس جنوری تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن پھر اتوار کو ہی، لیبیا کے انتخابی کمیشن نے اعلان کیا کہ 24 دسمبر کو ہونے والے صدارتی اور پارلیمان کے انتخابات کے لیے امیدوار آٹھ نومبر پیر سے اپنی نامزدگیوں کا اندراج شروع کروا سکتے ہیں۔

ص ز/ ک م  (اے ایف پی، اے پی، روئٹرز)

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات