لیبیا میں امن کے لیے جرمنی کی پہل، برلن میں امن کانفرنس | حالات حاضرہ | DW | 18.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

لیبیا میں امن کے لیے جرمنی کی پہل، برلن میں امن کانفرنس

ایک ایسے وقت میں جب لیبیا میں جنگ بندی کے لیے بات چیت تعطل کا شکار ہے، جرمن چانسلر اینگلا میرکل اتوا رکے روز اس موضوع پر برلن میں ایک کانفرنس کی میزبانی کرنے والی ہیں۔

Konflikt in Libyen | Kämpfe (picture-alliance/dpa/A. Salahuddien)

لیبیا کی خانہ جنگی مغربی ممالک کے لیے تشویش کا باعث

لیبیا میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے برلن میں ہونے والی اس کانفرنس میں لیبیا کے فریقین کے ساتھ ساتھ عالمی برادرای کے کئی اعلٰی مندوب شرکت کرنے والے ہیں۔ جرمن حکومت کے ایک ترجمان اسٹیفن زائبرٹ نے اس سے متعلق ایک ٹوئیٹ میں لکھا، "لیبیا کی خود مختاری اور مفاہمتی عمل کے لیے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیوگويتیرس اور خصوصی ایلچی غسان سلامی نے جو کوششیں کی ہیں انہیں کی حمایت  کی غرض سے، چانسلر میرکل نے اتوار کے روز برلن میں لیبیا پر کانفرنس کے لیے سب کو مدعو کیا ہے۔"

حکومت کے ترجمان نے برلن کی اس کانفرنس میں لیبیا کے جنگجو سردار خلیفہ حفتر اور اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے سربراہ فائز السراج کی شرکت کا امکان ظاہر کیا ہے۔ ان کے علاوہ امریکا، روس، برطانیہ، فرانس اٹلی، یوروپی یونین اور اقوام متحدہ کے اعلٰی سفارت کار بھی اس کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ جرمن چانسلر نے افریقی یونین، عرب لیگ، الجزائر، مصر، متحدہ عرب امارات اور ترکی کو بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔

Bildkombo Haftar und as-Sarradsch

فائز السراج (دائیں) اور خلیفہ حفتر اقتدار کی جنگ میں ہیں

حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اس سے متعلق بہت سے اعلٰی حکام کے ساتھ پہلے کئی دور کی میٹنگز کی جا چکی تھیں اور انہیں امید ہے کہ اتوار کو کئی ممالک کے وزراء اعظم اور سربراہان مملکت اس میں شرکت کریں گے۔

اس کانفرنس کا انعقاد ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب چند روز قبل ہی خلیفہ حفتر کسی معاہدے پر دستخط کیے بغیر ہی ماسکو سے واپس آگئے تھے۔ خلیفہ حفتر ماضی میں لیبیا کی فوج میں جنرل کے عہدے پر فائز تھے۔ اب ایک جنگی سردار کی حیثیت سے ان کا اثر رسوخ کافی بڑھ گیا ہے اور فی الوقت ملک کے مشرقی حصے کی باگ ڈور انہی کے ہاتھ میں ہے۔

ان کی فوج گزشتہ کئ ماہ سے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے حکومتی فورسز سے بر سرپیکار ہے۔ اقوام متحد کی حمایت یافتہ حکومت نیشنل ایکورڈ (جی این اے) کی قیادت فائز السراج کے ہاتھ میں ہے اور اطلاعات کے مطابق ماسکو میں جس معاہدے پر فائز السراج نے دستخط کیے تھے اسی کو خلیفہ حفتر نے مسترد کیا تھا۔  

Infografik Karte Frontverlauf Libyen EN (Bitte stattdessen 599316 verwenden)

جرمن حکومت اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی غسان سلامی کے اس منصوبے کی حمایت کرتی ہے کہ لیبیا میں سیاسی عمل دوبارہ شروع کیا جائے۔ اس کے تحت پہلے مکمل جنگ بندی ہو، پھر اس پر ایک اعلی سطحی عالمی کانفرنس اور اس کے بعد لیبیا میں لڑنے والے مختلف گروہوں کے درمیان مذاکرات شروع کیے جائیں۔

ماہرین کے مطابق جرمن حکومت اس سلسلے میں اب تک عالمی برادری کے ساتھ ملکر ثالثی کا کردار ادا کرتی رہی ہے تاہم لیبیا میں لڑنے والے مختلف دھڑوں سے اس کا براہ راست کوئی تعاون یا روابط نہیں رہے ہیں۔

لیبیا 2011ء میں معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد سے بحران کا شکار ہے۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے حمایت یافتہ باغیوں نے قذافی کو ان کی گرفتاری کے دوران ہی ہلاک کر دیا تھا۔

اس کے بعد سے مختلف جنگجو گروہ اس شمالی افریقی ملک میں اقتدار حاصل کرنے کی کوششوں میں ایک دوسرے کے خلاف لڑائی میں مصروف ہیں۔ عالمی برادری اور مبصرین کو اس بات کا خدشہ ہے کہ لیبیا میں بھی جاری لڑائی شام ہی کی طرح کہیں بھیانک خانہ جنگی کا رخ نہ اختیار کر جائے۔

ز ص/ ک م/ ایجنسیز

 

DW.COM

Audios and videos on the topic