لیبیا اور ترکی کے درمیان سمجھوتے، بحیرہ روم کے خطے میں تناؤ | حالات حاضرہ | DW | 30.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

لیبیا اور ترکی کے درمیان سمجھوتے، بحیرہ روم کے خطے میں تناؤ

ترکی نے لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے ساتھ سمندری نگرانی اور فوجی تعاون کے دو سمجھوتے طے کیے ہیں۔ ان سمجھوتوں سے بحیرہ روم کے بعض ممالک میں تناؤ پیدا ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔

ان سمجھوتوں میں یہ طے پایا گیا ہے کہ طرابلس اور انقرہ کی حکومتیں دو طرفہ فوجی تعاون میں اضافہ کریں گی اور سمندری سرحدی نگرانی کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔ فوجی تعاون کی ڈیل سے بحیرہ روم کے بعض ممالک نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ایسے اندازے لگائے گئے ہیں کہ ترکی شمالی افریقی دوست ممالک کے ساتھ اپنے روابط کو مستحکم کر کے توانائی کے ذخائر تک پہنچنے کی خواہش رکھتا ہے۔

یہ سمجھوتا اس لیے بھی اہم ہے کہ لیبیا میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے سربراہ وزیراعظم فائز السراج کو بین الاقوامی حمایت کی اشد ضرورت تھی کیونکہ پچھلے آٹھ ماہ سے انہیں داخلی انتشار کا سامنا ہے۔ رواں برس اپریل سے جنگی سردار خلیفہ حفتر کی لیبین نیشنل آرمی نے دارالحکومت طرابلس پر قبضہ کرنے کے لیے چڑھائی کر رکھی ہے۔ بظاہر ابھی تک حفتر کی خواہش ادھوری ہے کیونکہ ان کی فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ ہفتر کو سعودی عرب اور مصر جیسے ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے جبکہ ترکی ان کی خواہشات کے برعکس فائز السراج کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ لیبیا میں قطر بھی ترکی کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

Karte Mittelmeer, Nordafrika, Türkei EN

نقشے میں ترکی اور لیبیا کے علاوہ فبرص اور کریٹ کے جزائر نظر آ رہے ہیں

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے کمیونیکشن ڈائریکٹر فرحت دین التون نے رواں ہفتے کے دوران ایک ٹویٹ میں واضح کیا تھا کہ ترکی اور لیبیا کے درمیان فوجی تعاون بڑھنے سے لیبیائی عوام کو جنگی خطرات سے بچاؤ حاصل ہو گا اور اُن کا ملک کے اندر سلامتی کی صورت حال بہتر ہو گی۔ دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والی فوجی ڈیل تو بدھ ستائیس نومبر کو طے پائی تھی لیکن تفصیلات عام نہیں کی گئی ہیں۔

حکومت نواز اخبار روزنامہ صباح کے مطابق اب لیبیا کے ساتھ ڈیل طے ہونے پر اُس کی سمندری سرحد جنوب مغرب کی سمت بڑھ گئی ہے۔ اس تناظر میں یونان کے وزیرخارجہ نکوس ڈینڈیاس نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اخبار کی سوچ کو لغو قرار دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اخبار یہ بھول گیا ہے کہ ترکی کے جنوب مغرب ہی میں یونانی جزیرہ کریٹ ہے اور اور اس کو سرحدی توسیع کے بیان میں واضح نہیں کیا گیا۔

ترکی اور قبرص کے درمیان بھی تنازعات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں ترکی کا جزیرہ قبرص کے قریب تیل و گیس کی تلاش نے دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کو بڑھا دیا ہے۔ اس باعث یورپی یونین بھی اس تنازعے میں شامل ہو چکی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ ترکی کی توانائی کی ضروریات بڑھتی جا رہی ہیں اور اس کے لیے وہ اپنے تعلقات کو وسعت دے رہا ہے۔ یہ کوششیں مختلف ہمسایہ ملکوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہیں۔

تھوماس ایلینسن ⁄ محمود حسین (ع ح ⁄ ا ا)

DW.COM