لیبیا: امریکی جنگی طیاروں کی بمباری، 41 افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 19.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا: امریکی جنگی طیاروں کی بمباری، 41 افراد ہلاک

امریکی جنگی طیاروں نے لیبیا کے مغربی شہر صبراتہ میں شدت پسند تنظیم داعش کے مبینہ ٹھکانوں پر بمباری کی ہے، جس کے تیجے میں کم از کم اکتالیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ لیبیا میں گزشتہ تین ماہ کے دوران یہ دوسرا امریکی حملہ تھا۔

امریکا نے اس بمباری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا نشانہ تیونس سے تعلق رکھنے والا عسکریت پسند نورالدین تھا، جو اپنے ملک میں دو بڑے بم حملے کر چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں مبینہ طور پر داعش سے تعلق رکھنے والے چالیس جنگجو بھی مارے گئے ہیں۔ امریکا کی اتحادی فورسز نے فروری کے آغاز میں کہا تھا کہ پورے خطے میں داعش کے خلاف کارروائیاں کی جائیں گی۔

امریکی محکمہ دفاع کے بیان کے مطابق ان کے جنگی طیاروں نے داعش کے ایک ٹریننگ کیمپ کو نشانہ بنایا ہے، جہاں تیونس میں بم حملے کرنے والا نورالدین بھی تھا۔

لیبیا کے شہر صبراتہ کے میئر حیسن التوادی کا نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکی طیاروں نے صبح ساڑھے تین بجے بمباری کی، جس میں اکتالیس افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے ہیں۔ فوری طور پر ہلاکتوں کی دیگر ذرائع سے تصدیق نہیں ہو پائی ہے لیکن تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں بہت بڑا گڑھا پڑ گیا ہے اور متعدد زخمی ہسپتال میں لائے گئے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ جس گھر کو نشانہ بنایا گیا تھا وہ شہر کے مرکز سے آٹھ کلومیٹر مغرب کے رہائشی علاقے میں واقع تھا۔ اس علاقے میں زیادہ تر غیرملکی آباد ہیں۔ تیونس کے سکیورٹی حکام کے مطابق وہاں تیونس سے تعلق رکھنے والے داعش کے عسکریت پسندوں کو ٹریننگ فراہم کی جاتی تھی اور یہ علاقہ تیونس سے بالکل قریب واقع ہے۔

منگل کو امریکی صدر باراک اوباما نے کہا تھا کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ داعش کو لیبیا میں مضبوط ہونے سے روکا جا سکے۔

یاد رہے کہ سن دو ہزار گیارہ میں معمر قذافی کے خلاف شروع ہونے والی بغاوت میں ہزاروں رضاکار جنگجوؤں کو مسلح کیا گیا تھا اور اس وقت ان گروہوں کو مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اُس وقت ان باغیوں کو نہ صرف چھوٹے بلکہ بھاری ہتھیار بھی فراہم کیے گئے تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق لیبیا کے مسلح گروپوں کے پاس اس قدر اسلحہ موجود ہے کہ وہ آئندہ کئی برسوں تک لڑائی جاری رکھ سکتے ہیں۔

امریکی شہر نیویارک میں قائم مشاورتی انٹیلی جنس تھنک ٹینک ’سوفن‘ کے تجزیہ کار پیٹرک سکنر کا کہنا ہے، ’’سن دو ہزار گیارہ میں قذافی حکومت کے بعد سے اب صورتحال سب سے زیادہ خطرناک ہے۔‘‘ تیل کی دولت سے مالا مال شمالی افریقی ملک لیبیا میں گزشتہ بارہ ماہ سے دو متوازی حکومتیں کام کر رہی ہیں اور ان دونوں حکومتوں کے مابین اقتدار پر قبضے کی جنگ جاری ہے۔

پیٹرک سکنر کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک برس سے لیبیا میں جہادی جنگجوؤں کا دائرہ کار وسیع ہوتا جا رہا ہے جبکہ ملک دو حکومتوں کے بجائے مقامی قبائل میں بھی تقسیم ہوتا جا رہا ہے، ’’لیبیا میں اس وقت علاقائی ممالک بھی اپنے حمایتی گروپوں کی سرپرستی جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

اشتہار