لڑکیوں کو کنٹرول کرتی ہوئی مغربی فیشن کمپنیاں | معاشرہ | DW | 05.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

لڑکیوں کو کنٹرول کرتی ہوئی مغربی فیشن کمپنیاں

بھارتی لڑکیاں آہستہ آہستہ اپنے روایتی لباس سے دوری اختیار کرتی جا رہی ہیں جبکہ دنیا کی بڑی بڑی فیشن کمپنیوں کی کوشش ہے کہ وہ کسی کسی نہ کسی طریقے سے اس ابھرتی ہوئی مارکیٹ پر کنٹرول حاصل کریں۔

نئی دہلی کے ایک شاپنگ مال میں کھڑی اکیس سالہ ریدھی گوئل کا کہنا ہے تھا، ’’میری والدہ مغربی طرز کی شرٹ پر تو کوئی اعتراض نہیں کرتیں لیکن انہیں جینز اور گہری نیک لائن والے کپڑے پسند نہیں ہیں۔‘‘ صحافت کی اس اسٹودنٹ کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’میرے خاندان میں تقریباﹰ سبھی لوگ روایتی کپڑے پہنتے ہیں لیکن مجھے یہ کپڑے آرام دہ نہیں لگتے، میرے خیال سے یہ جنریشن گیپ ہے۔‘‘

بھارت کی زیادہ تر خواتین ابھی تک روایتی لباس ساڑھی یا شلوار قمیص پہنتی ہیں لیکن صورتحال اب آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہی ہے۔ شہروں کی سڑکوں پر، کالجوں اور اسکولوں میں زیادہ تر ایسی لڑکیاں نظر آتی ہیں جنہوں نے شرٹیں اور جینز پہن رکھی ہوتی ہیں۔ بھارتی نوجوانوں میں مغربی اسٹائل کے کپڑوں کی بھوک غیرملکی فیشن کمپنیوں کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو رہی ہے۔ حالیہ کچھ عرصے میں امریکی چین ’گیپ‘ اور سویڈن کی ’ایچ اینڈ ایم‘ جیسی کمپنیاں بھارت میں اپنی شاخیں کھول چکی ہیں جبکہ دیگر غیر ملکی برینڈز بھی تیزی کے ساتھ پھیل رہے ہیں۔ اسپین کی مشہور کمپنی ’ذارا‘ بہت کامیاب جا رہی ہے جبکہ برطانوی برینڈ ’مارکس اینڈ اسپینسر‘ نے اکتوبر میں اپنی پچاسویں شاخ کا افتتاح کیا ہے۔ اس کمپنی کے لیے برطانیہ کے باہر بھارت سب سے بڑی مارکیٹ ثابت ہوا ہے۔

اروند ٹیکسٹائل گروپ کے مینیجنگ ڈائریکٹر جے سریش کا کہنا تھا، ’’ اب مغربی طرز کے لباس کا وقت آ گیا ہے اور اس میں نہایت تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔ آپ 1990 کے بعد پیدا ہونے والی کسی بھی لڑکی کو دیکھ لیں، وہ آپ کو جینز پہنے نظر آئے گی۔ یہ وہ جنریشن ہے، جو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آئے گی۔ ان کا لباس مکمل طور پر مغربی ہو جائے گا۔‘‘

بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے دنیا بھر میں سب سے بڑی مارکیٹ خواتین کی ہے لیکن بھارت میں نوجوان لڑکے بھی ان کے لیے باعث کشش ہیں۔ سن 2014 کے اعداد و شمار کے مطابق اڑتیس ارب ڈالر کی مارکیٹ میں نوجوان لڑکوں کا حصہ بیالیس فیصد بنتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق غیرملکی کمپنیوں کو مقامی اداروں کو طرف سے بھی مقابلے کا سامنا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے کپڑوں میں مقامی ضروریات کو بھی مد نظر رکھ رہے ہیں۔ دوسری جانب بھارتی وزیراعظم کی طرح کرتا پہننے والے مردوں کی تعداد پہلے ہی بہت کم ہو چکی ہے۔

اشتہار