ليبيا ميں ترک نواز شامی جنگجو موجود ہيں، ترک صدر | حالات حاضرہ | DW | 21.02.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ليبيا ميں ترک نواز شامی جنگجو موجود ہيں، ترک صدر

ترک صدر رجب طيب ایردوآن نے پہلی مرتبہ باقاعدہ طور پر اس بات کی تصديق کی ہے کہ ليبيا ميں تربيتی دستوں کے ہمراہ ترک نواز شامی جنگجو موجود ہيں، جنہيں انقرہ حکومت نے روانہ کيا تھا۔

استنبول ميں رپورٹرز سے بات چيت کرتے ہوئے ایردوآن نے کہا، ''ترکی کی تربيتی فورسز ليبيا ميں ہيں۔ اس کے علاوہ سیریئن نيشنل آرمی کے جنگجو بھی وہاں سرگرم ہيں۔‘‘سیریئن نيشنل آرمی شامی باغيوں پر مشتمل فورس ہے، جسے پہلے فری سیریئن آرمی کے نام سے جانا جاتا تھا۔

ترک حکومت ليبيا ميں اقوام متحدہ کی حمايت يافتہ حکومت (GNA) کی حامی ہے۔ اس حکومت کا مرکز طرابلس ميں ہے اور پچھلے سال کے اواخر ميں ايک معاہدے کے بعد ترکی نے طرابلس حکومت کی مدد کے ليے تربيتی فوجی دستے بھی روانہ کيے تھے۔ طرابلس حکومت کو کئی ماہ سے کمانڈر خليفہ حفتر کی حامی افواج کے حملوں کا سامنا ہے، جنہيں روس کی حمايت حاصل ہے۔ اس سال جنوری ميں جنيوا ميں امن مذاکرات کے دو ادوار منعقد ہوئے، جن ميں فريقين نےحصہ ليا تھا اور جنگ بندی کے معاہدے کو حتمی شکل بھی دی تاہم اس کی خلاف ورزی مسلسل جاری ہے۔

جمعے اکيس فروری کو اپنے ايک بيان ميں خليفہ حفتر نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے ليے ان کی شرائط ہيں کہ ليبيا سے تمام شامی و ترک جنگجو واپس جائيں اور انقرہ حکومت طرابلس حکومت کو اسلحے کی فراہمی بند کرے۔ دوسری جانب ایردوآن کا دعوی ہے کہ روس نے 'واگنر‘ نامی ايک نجی کمپنی کے ڈھائی ہزار جنگجو ليبيا روانہ کيے ہيں۔ روس نے اس الزام کی ترديد کی ہے۔ ترک صدر کا يہ بھی الزام ہے کہ حفتر کو لگ بھگ پندرہ ہزار 'دہشت گردوں‘ کی حمايت حاصل ہے۔ ایردوآن کے مطابق متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی حفتر کی پشت پناہی کر رہے ہيں۔

ع س / ع ا، نيوز ايجنسياں