لورالائی میں کارروائی، چار مبینہ خود کش حملہ آور ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 26.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

لورالائی میں کارروائی، چار مبینہ خود کش حملہ آور ہلاک

پاکستانی صوبہ بلوچستان کے ضلع لورالائی میں ملکی انٹیلیجنس اداروں کی ایک مسلح کارروائی میں چار مبینہ خودکش حملہ آور مارے گئے ہیں۔ مارے جانے والے چاروں شدت پسندوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے بتایا گیا ہے۔

سکیورٹی حکام کے مطابق اس کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں چار سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہو گئے۔ لورالائی میں تعینات سینئر سکیورٹی اہلکار حیات الرحمٰن کے مطابق سرکاری فورسز نے طالبان  عسکریت پسندوں کے خلاف یہ کارروائی ناصر آباد کے علاقے میں کی۔

انہوں نے منگل چھبیس مارچ کو ڈی ڈبلیو کو بتایا، آج صبح سکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس اطلاعات پر لورالائی کے شمال مشرقی حصے میں یہ کارروائی کی۔ ہمیں اطلاع ملی تھی کہ ایک کمپاؤنڈ میں خودکش حملہ آور موجود تھے، جو حملے کرنے کے لیے بالکل تیار تھے۔ اس پر سکیورٹی فورسز نے اس کمپاؤنڈ کو گھیرے میں لیا تو شدت پسندوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کا یہ سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔ فائرنگ کے تبادلے میں چاروں عسکریت پسند مارے گئے جبکہ چار سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہو گئے۔‘‘

حیات الرحمٰن نے بتایا کہ اس کمپاؤنڈ میں چھپے ہوئے شدت پسندوں نے وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ شدت پسند جس کمپاؤنڈ میں چھپے ہوئے تھے، اسے چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا گیا تھا۔ کافی دیر تک فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی، اور پھر فائرنگ رک گئی۔ ان شدت پسند نے خود کو کمپاؤنڈ کے احاطے میں ہی دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ بعد میں اس کمپاؤنڈ کو تلاشی کے بعد کلیئر کر دیا گیا۔‘‘

ہلاک شدگان کی جسمانی باقیات بعد ازاں ایک مقامی ہسپتال منتقل کر دی گئیں۔ اس دھماکے سے چند قریبی عمارتیں بھی متاثر ہوئیں۔ ناصر آباد کے رہائشی اور اس کارروائی کے ایک عینی شاہد محمد یعقوب نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں کی ایک بھاری نفری صبح اس علاقے میں پہنچی اور ایک ایسے مکان کو گھیرے میں لے لیا گیا، جسے مقامی لوگ ایک مدرسے کے طور پر جانتے تھے۔ جب اندھا دھند فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا تھا، تو مقامی لوگ بہت خوف زدہ ہو گئے تھے۔ قریبی عمارات کے رہائشی تو اپنی جانیں بچانے کے لیے اپنے گھروں میں جا چھپے تھے۔‘‘

پاکستانی فوجی کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ایک بیان کے مطابق اس کارروائی میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا۔

اس بیان کے مطابق حکام کو اس کمپاؤنڈ سے دھماکہ خیز مواد اور خودکش جیکٹوں کے علاوہ اسلحہ اور نیم فوجی لیویز کے ان چھ ارکان کے شناختی کارڈ بھی ملے، جنہیں صوبے کے ضلع زیارت میں سنجاوی نامی علاقے میں شدت پسندوں نے پانچ روز قبل ایک بڑے حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔

لورالائی میں کارروائی کے بعد کوئٹہ میں فائرنگ
لورالائی میں اس واقعے کے ایک گھنٹے بعد عسکریت پسندوں نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سریاب روڈ پر بلوچستان یونیورسٹی کے ایک سینئر اہلکار پر فائرنگ کی۔ پولیس کے مطابق دوکانی بابا چوک کے قریب اس فائرنگ کے نتیجے میں یونیورسٹی کے شعبہ امتحانات کے سپرنٹنڈنٹ حسین شاہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران بلوچستان کے افغانستان کے ساتھ سرحد سے ملحقہ علاقوں میں شدت پسندوں کے حملوں کے نتیجے میں دو درجن سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل عسکریت پسندوں نے لورالائی ہی میں ایک فوجی چھاؤنی پر بھی حملہ کیا تھا، جس میں سکیورٹی دستوں نے ایک مسلح مقابلے میں ان شدت پسندوں کو ہلاک کر دینے کا دعویٰ کیا تھا۔

صوبے میں دہشت گردی کی نئی لہر

دفاعی امور کے معروف تجزیہ کار محمد عباس کے بقول بلوچستان میں حالیہ پرتشدد واقعات وہاں دہشت گردی کی ایک نئی لہر کا حصہ ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’بلوچستان میں غیرملکی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے اورچین آئندہ چند دنوں میں وہاں مزید منصوبوں پر کام شروع کرنے والا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت حال ہی میں سی پیک کے منصوبے کے مغربی روٹ پر کام شروع کرنے کاعندیہ بھی دے چکی ہے۔ شدت پسندوں کے حملوں میں تیزی کی وجہ یہ ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ صوبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی جائے۔‘‘ محمد عباس کے بقول غیرملکی سرمایہ کاری سے قبل بلوچستان میں حالات کو سازگار بنانا بہت ضروری ہے، جس کے لیے مزید سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

فوج کے دعووں اور زمینی حقائق میں خلیج

ادھر صوبے میں سیاست پر قریبی نظر رکھنے والے تجزیہ کار فرمان رحمان کے مطابق دہشت گردی کی یہ حالیہ لہر بلوچستان میں ترقیاتی عمل کو ثبوتاژ کرنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہو ں نے کہا، ’’اس وقت بلوچستان کے حالات میں جو غیرمعمولی تبدیلی سامنے آ رہی ہے، وہ کئی حوالوں سے بہت اہم ہے۔ چند ماہ قبل یہ دعوے سامنے آئے تھے کہ صوبے میں دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے اور آپریشن ردالفساد کے تحت شدت پسندوں کی ’آپریشنل اہلیت‘ ختم کر دی گئی ہے۔ لیکن ان تازہ حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید اس حوالے سے بعض حکومتی دعوے زمینی حقائق کے برعکس تھے۔ سوال یہ ہے کہ اتنے سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود شدت پسند حساس علاقوں میں داخل ہونے میں کامیاب کس طرح ہو جاتے ہیں؟‘‘ انہوں نے مزید بتایا، ’’بلوچستان میں استحکام کے بغیر پاکستان کبھی مستحکم نہیں ہوسکتا۔ حکمران بظاہر یہ بات سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ وقت کا اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ حکمران بلوچستان میں امن کی بحالی کے لیے زمینی حقائق پر پوری توجہ دیں۔‘‘

بلوچستان میں رواں ماہ کویت اور سعودی عرب کے اداروں نے بھی سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان بھی چند دنوں میں ایک دورے پر کوئٹہ پہنچیں گے، جہاں وہ سی پیک منصوبے کے مغربی روٹ پرکام کا افتتاح کریں گے۔

DW.COM