لندن: ٹرام حادثے ميں پانچ افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی | حالات حاضرہ | DW | 09.11.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لندن: ٹرام حادثے ميں پانچ افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی

برطانوی دارالحکومت لندن ميں آج ايک ٹرام پٹری سے اتر گئی، جس کے نتيجے ميں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہو گئے ہيں۔

لندن ميں آج بروز بدھ مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بج کر دس منٹ پر دو بوگيوں والی ايک ٹرام الٹ گئی۔ اس حادثے ميں اب تک پانچ افراد کی ہلاکت اور پچاس سے زائد کے زخمی ہونے کی تصديق ہو چکی ہے۔ يہ واقعہ شہر کے جنوبی حصے کے کروئڈن نامی علاقے کے جنکشن کے قريب پيش آيا۔ پوليس نے اسے ايک بڑا واقعہ قرار ديا ہے۔

لندن کے ميئر صادق خان نے کہا ہے کہ ايمرجنسی سروسز صورتحال پر قابو پانے اور زخميوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے ليے کام کر رہی ہيں۔

برٹش ٹرانسپورٹ پوليس کی جانب سے جاری کردہ ايک بيان ميں مطلع کيا گيا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی ٹرام کے ڈرائيور کو حراست ميں ليا جا چکا ہے۔ حادثے کی وجہ کا تعين کرنے کے ليے تفتيش جاری ہے۔

لندن کی ايمبولينس سروس کے مطابق مجموعی طور پر بائيس ايمبولينسوں کی مدد سے اکاون زخميوں کو شہر کے دو مختلف ہسپتالوں تک پہنچا ديا گيا ہے اور وہ زير علاج ہيں۔ زخميوں کو طبی سہوليات فراہم کرنے والے محکمے کے نائب ڈائريکٹر پيٹر مک کينا کے مطابق کئی زخميوں کو موقع پر ہی فوری طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ کچھ کو آنے والے زخموں کی نوعيت زيادہ سنگين ہے۔ ايک ہسپتال کے مطابق بيس کے لگ بھگ زخميوں کو کافی زيادہ چوٹيں آئی ہيں اور نتيجتاً ان کی حالت نازک ہے۔

فائر بريگيڈ کے عملے کے مطابق ٹرام کے ملبے ميں اب بھی دو افراد پھنسے ہوئے ہيں، جنہيں نکالنے کے ليے کام جاری ہے۔

برطانوی دارالحکومت کے واحد ٹرام نيٹ ورک کا آغاز سن 2000 ميں ہوا تھا۔ اٹھائيس کلوميٹر طويل يہ نيٹ ورک جنوبی لندن کے کئی مضافاتی علاقوں ميں آمد و رفت کے ليے استعمال ميں آتا ہے۔ سن 2015 اور 2016ء  کے دوران ستائيس ملين شہری اس سروس سے مستفيد ہو چکے ہيں۔