لاہور میں تین روزہ فیض میلہ، نوجوانوں کی شرکت نماياں | فن و ثقافت | DW | 18.11.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

لاہور میں تین روزہ فیض میلہ، نوجوانوں کی شرکت نماياں

پاکستان کے معروف شاعر فیض احمد فیض کے نام سے منسوب تین روزہ ادبی پروگرام فیض انٹرنیشنل فیسٹیول اتوار اٹھارہ نومبر کی رات اختتام پذیر ہوگیا۔ اس تین روزہ بین الاقوامی میلے کا انعقاد لاہور کے الحمراء آرٹس سينٹر میں کیا گیا۔

فیض انٹرنیشنل فیسٹیول میں پاکستان بھر سے آئے ہوئے شاعروں، ادیبوں، صحافیوں، فنکاروں اور فنون لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والے افراد کی ايک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس میلے میں شرکت کے ليے دس سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی وفود بھی پاکستان آئے۔

الحمراء آرٹس سينٹر میں سجے اس میلے میں کتابوں کے اسٹالز کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ فیسٹیول کے آغاز پر ’کیفی اور فیض‘ کے نام سے ایک خوبصورت نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی اور فیض احمد فیض کی صاحب زادی سلیمہ ہاشمی نے کیفی اعظمی اور فیض احمد فیض کے حوالے سے اپنی یادیں تازہ کیں۔ بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی نے اپنے والد کیفی اعظمی اور فیض کے ذکر پر غزل بھی پڑھی۔

ایک اور نشست میں شبانہ اعظمی کے شوہر اور نامور بھارتی شاعر جاوید اختر اور پاکستانی شاعر امجد اسلام امجد کی ادبی گفتگو کو حاضرین نے دلچسپی سے سنا۔ اس میلے میں ضیاء محی الدین کے ساتھ ایک شام مشتاق یوسفی کے نام میں بھی شرکاء نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

فیض انٹرنیشنل فیسٹیول میں اجوکا تھیٹر کی جانب سے خصوصی ڈرامہ، مقامی اسکول کے بچوں کی طرف سے رقص پرفارمنس اور ممتاز پاکستانی گلوکارہ طاہرہ سید کی طرف سے گیت بھی پیش کیے گئے۔ انکل سرگم سے ملیے کے عنوان تلے ہونے والے پروگرام ميں ممتاز پاکستان فنکار فاروق قیصر نے حاضرین کے سوالات کے جوابات دیے۔ فیض فیسٹیول میں عاصمہ جہانگیر، منو بھائی اور کلدیپ نئیر کو خراج عقيدت پیش کیا گیا۔

اس فیسٹیول کی کوریج کرنے والے ایک سینیئر صحافی شیر علی خلطی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کر تے ہو ئے بتايا کہ اس مرتبہ فیض میلے کی خاص بات اس میں نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت تھی۔

اس میلے کے دوران ایک آرٹ نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا جبکہ رقص کے ذریعے کہانی سنانے کے حوالے سے ورکشاپس بھی منعقد ہوئے۔

پاکستان میں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فیض میلے جیسی تقاریب معاشرے کا سافٹ امیج اجاگر کرنے اور قومی بیانیے کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہيں۔