لاکھوں افغان ′منجمد جہنم′ میں جی رہے ہیں، اقوام متحدہ | حالات حاضرہ | DW | 27.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

لاکھوں افغان 'منجمد جہنم' میں جی رہے ہیں، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے کہا کہ لاکھوں افغان 'منجمد جہنم' میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اگر ان کی فوراً مدد نہ کی گئی تو لاکھوں زندگیاں ختم ہوجائیں گی نیز مایوسی اور انتہا پسندی میں اضافہ ہوگا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے بدھ کے روز اقوام عالم سے اپیل کی کہ افغانستان میں انسانی امداد کے لیے فوری اقدامات کریں کیونکہ لاکھوں افغان ایک 'منجمد جہنم' میں زندگی گزارنے کے لیے مجبور ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ سے تباہ حال ملک کی معیشت کو بحال کرنے کے لیے اس کے منجمد تقریباً نو ارب ڈالر کے اثاثے فوراً جاری کیے جائیں ورنہ بہت جلد بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔

سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے کہا، "وقت بہت اہم ہے۔ عملی اقدامات کے بغیر زندگیاں ختم ہوجائیں گی اور ناامیدی اور انتہا پسندی میں اضافہ ہوگا۔" انہوں نے مزید کہا کہ سماجی خدمات تباہی کے دہانے پر ہیں اور لاکھوں لوگ بھوک، تعلیم اور نقد رقم کی کمی کا شکار ہیں۔ انسانی امداد کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی ضرورت مندوں تک پہنچنے کی صلاحیت محدود ہو رہی ہے۔

فوری امداد کی ضرورت

گوٹیرش نے 15 رکنی سلامتی کونسل سے کہا کہ "ہمیں ایسے قواعد وشرائط کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جونہ صرف افغان معیشت بلکہ زندگی بچانے والی ہماری کارروائیوں کو بھی محدود کر رہے ہیں۔ افغانستان میں زندگیاں بچانے کے لیے ہمیں ایسے قوانین اور شرائط پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے۔"

انہوں نے ایک بار پھر ریاستوں پر زور دیا کہ وہ عام اجازت نامے جاری کریں جو تمام انسانی سرگرمیوں کے لیے ضروری مالیاتی لین دین کی اجازت دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ ڈاکٹروں، ٹیچروں، صفائی ملازمین، الیکٹریشئن اور دیگر سول ملازمین کو تنخواہیں دی جاسکیں۔

انہوں نے منجمد کرنسی کے ذخائر جاری کرنے اور سینٹرل بینک آف افغانستان کے ساتھ دوبارہ رابطہ قائم کرنے کے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

خیال رہے کہ افغانستان کے مرکزی بینک کے تقریباً 9.5 بلین ڈالر کے ذخائر اب بھی ملک سے باہر منجمد ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں 8.7 ملین افراد بھوک کے دہانے پر ہیں اور ان میں سے نصف سے زیادہ "بھوک کی انتہائی سطح" پر پہنچ چکے ہیں۔

انٹونیو گوٹیرش کا کہنا تھا، "80 فیصد سے زیادہ آبادی پینے کے لیے آلودہ پانی پر انحصار کر رہی ہے اور بعض کنبوں کو کھانے پینے کی اشیاء خریدنے کے لیے اپنے بچوں کو فروخت کرنا پڑ رہا ہے۔"

عوام کو سزا نہیں دی جاسکتی

چین اور روس نے بھی افغانستان کے اثاثوں کو غیر منجمد کرنے کی اپنی اپیل کا اعادہ کیا ہے۔ تاہم امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ کا کہنا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ لیکویڈیٹی کو نرم کرنے کے لیے مختلف متبادل کا جائزہ لے رہی ہیں۔

عالمی اعانت پر منحصر افغانستان کی معیشت گزشتہ اگست میں امریکی اور نیٹو افواج کے وہاں سے اچانک نکل جانے اور طالبان کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے مزید ابتر حالت کا شکار ہوگئی۔ بین الاقوامی برادری نے بھی بیرون ملک افغانستان کے اثاثے منجمد کردیے اور اقتصادی امداد روک دی۔

سلامتی کونسل کی میٹنگ میں روس کے نائب سفیر دمتری پولیناسکی نے متنبہ کیا کہ اگر افغانستان کے اثاثوں کو غیر منجمد کرنے کے مسئلے کو فوراً حل نہ کیا گیا تو افغانستان کے اس بحران سے نکلنے کا امکان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا، "ہم امریکا اور مغربی عطیہ دہندگان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ افغانستان کے پیسے فوراً واپس کردیں۔ یہ پیسے افغان عوام کے ہیں اور ملک کے نئے حقائق کے لیے افغان عوام کو سزا نہیں دی جاسکتی۔"

چینی سفیر زانگ جن کا کہنا تھا افغانستان کے اثاثوں کو منجمد کرنا 38 ملین افغان عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے جبکہ انہیں اس وقت راحت کی سخت ضرورت ہے۔ انہو ں نے کہا افغان اثاثوں کو منجمد کرنا اور یک طرفہ پابندیاں عائد کرنا " فوجی مداخلت سے کچھ کم ہلاکت خیز نہیں ہے۔"

چینی سفیر کا کہنا تھا، "اگر افغان خواتین کو کھانا ہی نہیں ملے گا یا وہ زندہ ہی نہیں رہیں گی تو ان کی تعلیم، روزگار اور سیاسی شراکت کی باتیں محض کھوکھلے الفاظ ہوں گے۔"

 ج ا/ ص ز (ایسوسی ایٹیڈ پریس)

ویڈیو دیکھیے 02:16

طالبان کا خوف اور کابل کی خاتون کتب فروش

DW.COM