لاپتہ بلاگرز کے حق اور مخالفت میں مظاہرے کے دوران جھڑپیں | حالات حاضرہ | DW | 19.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لاپتہ بلاگرز کے حق اور مخالفت میں مظاہرے کے دوران جھڑپیں

پاکستان میں لاپتہ ہونے والے پانچ سرگرم کارکنوں کے حق میں ہونے والے ایک مظاہرے میں شریک افراد پر سخت گیر مذہبی مظاہرین کی طرف سے پتھراؤ کیا گیا ہے۔ لاپتہ ہو جانے والے بلاگرز پر توہین مذہب کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

اپنے بلاگز اور فیس بک پیجز  کے ذریعے پاکستانی سیاست میں فوجی کردار کو تنقید کا نشانہ بنانے اور اقلیتوں کے حق میں بولنے والے پانچ سرگرم کارکن چار جنوری سے لاپتہ ہیں اور یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے؟

ان کی گمشدگی کے فوراﹰ بعد ان کے خلاف سوشل میڈیا پر یہ الزامات عائد ہونا شروع ہو گئے تھے کہ یہ اپنے پیجز پر ایسا مواد شائع کرتے تھے، جو توہین مذہب کے زمرے میں آتا ہے۔

آج کراچی پریس کلب کے قریب لاپتہ بلاگرز کے حق میں مظاہرہ ہو رہا تھا کہ وہاں ایک غیر معروف مذہبی گروپ ’لبیک یا رسول اللہ‘ کے ایک سو کے قریب اراکین پہنچے اور انہوں نے نعرہ بازی کرتے ہوئے پتھراؤ کرنا شروع کر دیا۔ ان مذہبی مظاہرین نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر ’توہین مذہب کرنے والوں کے سر قلم کرنے‘ جیسے نعرے درج تھے۔

لاپتہ بلاگرز کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں کی حفاظت کے لیے انہیں ایک قریبی عمارت میں لایا گیا۔ پولیس افسر اورنگزیب خان کا نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہوں نے مذہبی گروپ کے سربراہ سے بات کی ہے اور انہیں واپس جانے کے لیے قائل کر لیا گیا ہے۔

’لوگوں کو غائب کرنا حکومت کی پالیسی نہیں‘، چوہدری نثار

لاپتہ بلاگرز کے دوست، اہلخانہ اور حمایتی اس الزام کو مسترد کرتے ہیں کہ بلاگرز نے توہین مذہب کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح ان پر الزام عائد کرتے ہوئے ان کی زندگیوں کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔

پاکستانی وزارت داخلہ کے مطابق ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ ان کے خلاف توہین مذہب کا کوئی کیس درج کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نثار علی خان کا کہنا تھا کہ حکومت ان کی گمشدگی کی ذمہ دار نہیں ہے۔

اس سے قبل اسلام آباد پولیس نے تصدیق کی تھی کہ ایک وکیل کی طرف سے ان بلاگرز کے خلاف توہین مذہب کی باقاعدہ شکایت درج کروائی گئی ہے۔

DW.COM