لاپتا خواتین کارکنوں کی بازیابی کے لیے اقوام متحدہ کا طالبان پر دباؤ | معاشرہ | DW | 22.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

لاپتا خواتین کارکنوں کی بازیابی کے لیے اقوام متحدہ کا طالبان پر دباؤ

افغانستان میں لاپتا ہونے والی ایک خاتون نے ویڈیو پوسٹ کی تھی جب مبینہ طور پر طالبان کے انٹیلیجنس شعبے سے وابستہ افراد ان کے گھر پہنچے تھے۔ طالبان نے ویڈیو کو فیک قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ نے افغانستان میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم دو خواتین کے لاپتا ہونے کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز تمنا پریانی اور پروانہ ابراہیم خیل کو طالبان نے ان کے گھروں سے اغوا کر لیا تھا۔

اقوام متحدہ کے افغانستان کے لیے خصوصی مشن کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا، ''ہم طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان خواتین کے محل وقوع کے بارے میں معلومات فراہم کریں اور تمام افغان شہریوں کے حقوق کا تحفظ کریں۔‘‘

واقعے کے وقت خاتون کارکن کی ویڈیو

تمنا پریانی نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو بھی بنا لی تھی۔

ویڈیو میں پریانی واضح طور پر خوف زدہ دکھائی دیتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ مبینہ طور پر طالبان کے خفیہ ادارے کے اہلکار ان کے گھر کا دروازہ توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ویڈیو شیئر کیے جانے کے کچھ دیر بعد افغانستان کے مقامی میڈیا آماج نیوز‘ کی نشریات معطل ہو گئی تھیں۔

اطلاعات کے مطابق ابراہیم خیل بھی اسی شام سے لاپتا ہیں۔

پریانی ان خواتین میں شامل تھیں جنہوں نے زبردستی حجاب پہنائے جانے کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں حصہ لیا تھا۔

ایک عینی شاہد نے نیوز ایجنسی اے پی کو بتایا کہ دس مسلح افراد نے رات کے وقت چھاپا مارا اور پریانی سمیت چار افراد کو حراست میں لے لیا۔

طالبان نے پریانی کی ویڈیو کو جعلی قرار دیا ہے۔ کابل پولیس کے ترجمان مبین خان نے دعویٰ کیا کہ 'ویڈیو میں ڈرامہ رچایا‘ گیا ہے۔

خواتین کے خلاف منظم صنفی امتیاز

پیر کے روز اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق پینل کے ماہرین نے کہا تھا کہ طالبان کی قیادت میں 'بڑے اور منظم طریقے سے صنفی امتیاز اور خواتین و لڑکیوں کے خلاف تشدد کو فروغ‘ دیا جا رہا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:16

طالبان کا خوف اور کابل کی خاتون کتب فروش

عالمی ادارے کے ماہرین کے مطابق افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے ایسے باہدف اقدامات کیے ہیں جن کے ذریعے خواتین کے کردار کو محدود کیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے پینل نے بیان میں کہا، ''آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ افغانستان میں عورتوں اور لڑکیوں کو عوامی زندگی سے بتدریج ختم کیا جا رہا ہے۔‘‘

جمعے کے روز ایک مقامی این جی او میں کام کرنے والی دو خواتین نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ طالبان نے انہیں دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے برقعہ نہ پہنا تو انہیں گولی مار دی جائے گی۔

طالبان نے اقتدار میں آنے کے بعد یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ خواتین کے حقوق یقینی بنائیں گے۔

ش ح/ع ت (اے ایف پی، ڈی پی اے)