لادین مہاجرین، جرمنی میں بھی خوفزدہ  | معاشرہ | DW | 23.12.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

لادین مہاجرین، جرمنی میں بھی خوفزدہ 

یہ لوگ خدا پر یقین نہیں رکھتے اور مذہبی پابندیوں کے بغیر ہی زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔ ان لادین پناہ کے متلاشی افراد کو نہ صرف اپنے آبائی ممالک میں زندگی کا خطرہ لاحق ہے بلکہ جرمنی میں بھی یہ خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔

محمود الحق منشی کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے۔ ان کے پانچ بلاگر دوستوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ انہیں بھی بنگلہ دیش میں جان کا خطرہ لاحق تھا۔ اس لیے وہ سن دو ہزار پندرہ میں ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

لادین نظریات کے حامل منشی اپنے مہاجرت کے سفر کے دوران نیپال اور سری لنکا کی خاک چھاننے کے بعد آخر کار جرمنی پہنچے، جہاں ان کی ملاقات کئی دیگر بنگلہ دیشی لوگوں سے ہوئی۔ لیکن منشی کے بقول جرمنی میں بھی وہ خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں منشی نے کہا، ’’فیس بک پر مجھے دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔ ایک دن تو مجھے ساڑھے چار ہزار دھمکیاں موصول ہوئیں۔‘‘ لادین نظریات کے باعث منشی کا نام انتہا پسندوں کی ’گلوبل ہٹ لسٹ‘ پر ہے۔  

جرمنی میں ایتھیسٹ ریفوجی ریلیف (اے آر آر)  نامی ایک امدادی ادارہ منشی کی مدد کر رہا ہے۔ یہ ادارہ سن دو ہزار سترہ سے اب تک 37 لادین مہاجرین کی مدد کر چکا ہے۔ اس ادارے کے مطابق لادین لوگوں کو جرمنی میں اپنی ہی کمیونٹی کے انتہا پسندوں سے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

اے آر آر سے وابستہ ڈیٹمار شٹائنر نے بتایا، ’’قدامت پسند مسلم ایسی خواتین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، جو ہیڈ اسکارف نہیں لیتی ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے تشدد کے واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں۔

سن دو ہزار تیرہ میں شاہ باغ تحریک شروع کرنے پر بنگلہ دیشی مسلم انتہا پسند عناصر محمود الحق منشی کے خلاف ہو گئے تھے۔ اس تحریک میں ایسے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا، جو انیس سو اکہتر کی ’جنگ آزادی‘ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف مظالم ڈھانے کے مرتکب ہوئے تھے۔ اس جنگ میں تین ملین کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بنگلہ دیش میں اسی تحریک کے باعث منشی کو بہت زیادہ مقبولیت ملی۔ وہ اس تحریک کے ایک اہم رکن تھے۔ منشی کے بقول ان کے بلاگ کے فالوورز کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ چکی تھی اور جب انہوں نے عوام سے احتجاج کا مطالبہ کیا تھا تو ایک ملین لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

تاہم یہ تحریک منشی کی ذاتی زندگی کے لیے ایک ’خوفناک حقيقت‘ بن گئی۔ مسلم انتہا پسندوں نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ منشی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ تحریک غیر مسلم تھی اور اسے لادین افراد نے شروع کیا۔ تب انتہا پسند عناصر نے منشی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف منظم طور پر پرتشدد کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔

ایتھیسٹ ریفوجی ریلیف (اے آر آر) سے وابستہ ڈیٹمار شٹائنر کا کہنا ہے کہ لادین لوگوں کے خلاف جذبات میں اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک برس قبل دو یا تین لادین لوگ خوف کی وجہ سے ان کے ادارے سے رابطہ کرتے تھے لیکن اب یہ تعداد بڑھ کر سات اور نو تک پہنچ چکی ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic