لائپزگ، مستقبل کا شہر | معلوماتِ جرمنی | DW | 01.05.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معلوماتِ جرمنی

لائپزگ، مستقبل کا شہر

صوبہ سیکسنی کے اس شہر کو ’مستقبل کا شہر‘ کہا جاتا ہے۔ ماضی کا یہ ’عروس البلاد‘ اپنی حیثیت دوبارہ منوانےکی کوشش کررہا ہے۔

تعیمر و ترقی کے راستے پر

یہاں کا مرکزی ریلوے سٹیشن یورپ کے جدید اور خوبصورت ریلوے سٹیشنوں میں سے ایک ہے۔ شہر کے مرکز کو اس طرح ازسر نو تعمیر کیا گیا ہے کہ اس کی تاریخی شناخت متاثر نہ ہو۔ شہر کے مرکز میں مختلف انواع کی دکانیں، انتظامی دفاتر، تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں کے مراکز ایک دوسرے جڑے ہوئے ہیں۔ پانچ لاکھ آبادی والے اس شہر میں ہر شہری کو وہ تمام بنیادی سہولتیں اور آسائشیں میسر ہیں جو کسی بھی ترقی یافتہ شہر کا خاصہ ہیں۔

شہر کی مرکزی یونیورسٹی تقریباﹰچھ سو سال پرانی ہے اور اس کا شمار جرمنی کی قدیم جامعات میں ہوتا ہے۔ اس میں تقریباﹰ تیس ہزار طالب علم زیر تعلیم ہیں۔ یہ ایک جدید یونیورسٹی ہےخاص کر معاشیات اور تجارت کے شعبہ جات کو خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ یہ ایک تجارتی نمائشوں کا مرکز ہےجہاں ہر سال کئی تجارتی نمائشیں منعقد کی جاتی ہیں۔ اس شہر کو مشرق اور مغرب کے درمیان کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے۔

Stadt Leipzig Flash-Galerie

شہر کے مرکزی حصے کا منظر

بین الاقوامی نمائشوں کا مرکز

آج دنیا بھر سے لوگ یہاں منعقد ہونے والی سالانہ نمائشوں میں حصہ لینے آتے ہیں۔ نمائش کے لئے تعمیر کئے گئے ہالوں میں نمائشی سٹال لگانے والوں اور شرکت کرنے والوں کے لئے ہر قسم کی سہولتیں مہیا کی گئی ہیں۔ خاص کر یہاں منعقد ہونے والی ’کتابوں کی نمائش‘ بین الاقوامی شہرت کی حامل ہے۔ کتابیں اور ذرائع ابلاغ شہر کی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ جرمنی کے تمام بڑے ناشروں کے دفاتر یہاں واقع ہیں اور دنیا کا پہلا اخبار1650ء میں اسی شہر سے شائع کیا گیا تھا۔

دوست نواز،سماجی اور باغی

صوبہ سیکسنی کے باشندے دوست نواز اور سماجی طور پر بڑے فعال ہیں لیکن اس کے ساتھ باغیانہ مزاج بھی رکھتے ہیں۔ اس کا واضع ثبوت ہر پیر کو مقامی چرچ میں ہونے والی دعائیہ رسومات ہیں۔ یہ دعائیہ رسومات1989ء سے شہر کے مرکزی نکولائی چرچ (Nikolaikirche) میں ادا کی جاتیں ہیں۔ یہ رسومات سابقہ کمیونسٹ دور میں مشرقی و مغربی جرمنی کے انضمام کے لئے چلائی جانے والی پر امن تحریک کی یاد میں منائیں جاتیں ہیں۔

Deutschland Geschichte Reformation Luther verbrennt Bulle Flash-Galerie

مارٹن لوتھر کنگ مسیحیت میں پروٹیسٹنٹ فرقے کے خالق سمجھے جاتے ہیں

1989ء میں دیوار برلن کے انہدام سے پہلے یہاں احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے تھے۔ بلا شبہ دیوار برلن کے انہدام میں ان مظاہروں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہاں کے باشندے سیاسی شعور رکھتے ہیں اور نجی محفلوں، ریستورانوں اور پارکوں میں ملکی سیاست اور شہری حکومت کے اقدامات پر بحث کرتے نظر آتے ہیں۔

مصلح اور موسیقار

اس شہر کی ایک پہچان تاریخی پس منظر کا حامل، تھامس چرچ (Thomaskirche) ہے۔ سولہویں صدی کے آغاز میں معروف مصلح مارٹن لوتھر(Martin Luther) یہاں تبلیغ کرتے تھے جنہوں نے1517ء کے دوران مسیحیت میں پوپ کی سرپرستی یعنی ’پاپائیت‘ کے خلاف اپنے 95 نقاط پیش کئے تھے۔ بعد میں یہی نقاط عیسائی پروٹیسٹنٹ فرقےکے قیام کا موجب بنے۔

اب دو سو سال بعد ایک بار پھر یہاں کا چرچ توجہ کا مرکز بن گیا ہے لیکن اس بار اس کی وجہ موسیقی کی دنیا کے نامور موسیقار جوہان سباسٹیان باخ (Johann Sebastian Bach) ہیں۔سباسٹیان کو چرچ کی موسیقی کی ترتیب میں کمال حاصل ہے۔

DW.COM

ویب لنکس