قیدیوں کی رہائی کے بعد طالبان بین الافغان مذاکرات پر تیار | حالات حاضرہ | DW | 10.08.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

قیدیوں کی رہائی کے بعد طالبان بین الافغان مذاکرات پر تیار

افغان طالبان کا کہنا ہے کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ افغان حکام کے مطابق طالبان قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ اگلے کچھ ہفتوں میں شروع ہو جائے گا۔

افغان حکومت کی تحویل میں چار سو طالبان  قیدیوں کی قسمت کا فیصلہ امن عمل کی کامیابی کے لیے انتہائی اہم  قرار دیا جارہا ہے۔ طالبان نے یہ شرط عائد کی تھی کہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل میں افغان حکومت کو تب ہی شامل کیا جائے گا جب وہ تمام افغان طالبان قیدیوں کو رہا کریں گے۔ امریکا اور طالبان کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کے دوران اب تک تقریباﹰ پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کیا جا چکا تھا۔ اتوار کو کابل میں منعقد لویہ جرگہ میں شامل تین ہزار افغان افراد نے تین روز تک جاری رہنے والے اس جرگے میں مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ افغانستان میں قید باقی 400 طالبان قیدیوں کو بھی رہا کر دیا جائے گا۔

 افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے، ''ہمارا موقف بالکل واضح ہے، طالبان قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ مکمل ہونے کے ساتھ ہی ہم بین الافغان امن مذاکرات کے لیے تیار ہوں گے۔‘‘ سہیل شاہین نے بتایا کہ مذاکرات کا پہلا دور دوحہ میں منعقد ہوگا۔

قیدیوں کا تبادلہ

افغان طالبان اور امریکا کے درمیان اس سال فروری میں مذاکراتی عمل کے لیے طے شدہ معاہدے میں قیدیوں کا تبادلہ انتہائی اہم شق تھی۔ اس معاہدے کے تحت واشنگٹن افغانستان سے اپنے فوجیوں کے انخلاء کا سلسلہ شروع کر سکتا ہے ۔ اس انخلاء کے بدلے میں طالبان نے امریکا کی یہ شرط قبول کی تھی جس کے تحت طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ بھی امن عمل کا آغاز کرنا ہوگا۔ اس مذاکراتی عمل کے ذریعے گزشتہ دو دہائیوں سے جاری تنازعہ کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سہیل شاہین کے مطابق بین الافغان امن مذاکرات میں طالبان کے وفد کی قیادت عباس ستانکزئی کر رہے ہیں۔ عباس ستانکزئی نے ہی امریکا کے ساتھ مذاکراتی عمل میں طالبان کے وفد کی قیادت کی تھی۔

قیدیوں پر سنگین الزمات

طالبان قیدیوں کو منشیات کی اسمگلنگ، اغوا اور قتل جیسے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ ان میں سے 44  افغان جنگجو امریکا اور دیگر ممالک کے لیے زیادہ  باعث فکر ہیں کیوں کہ وہ ماضی میں ’بڑے حملوں‘ میں ملوث پائے جا چکے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ افغان عوام کی جانب سے طالبان قیدیوں کی رہائی ایک غیر مقبول فیصلہ تھا۔ تاہم امریکا اور افغان قیادت دونوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ افغان عوام اور امن کے لیے انتہائی اہم تھا۔

لویہ جرگہ کی جانب سے جاری قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ان طالبان قیدیوں کی رہائی کا  فیصلہ امن مذاکرات کو بڑھانے، جنگ کو روکنے اور عوام کی بھلائی کے لیے کیا جارہا ہے۔ جرگہ نے حکومت سے گزارش کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کے رہا کیے جانے والے قیدی واپس جنگ کا راستہ اختیار نہ کریں۔ جرگہ نے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا۔

ب ج / ع آ (اے ایف پی)