قومی علامت ″گریٹ وال″ کی حفاظت چینی کسان کے لیے پریشانی | فن و ثقافت | DW | 10.06.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

قومی علامت "گریٹ وال" کی حفاظت چینی کسان کے لیے پریشانی

چین میں Yang Yongfu نامی کسان نے چین کے شمال مغربی حصے میں موجود مشہور زمانہ قومی علامت گریٹ وال کو ایک ٹورسٹ سائیٹ میں تبدیل کرنے کا کام سرانجام دیا ہے۔ لیکن اب وہ بہت زیادہ پریشان بھی ہے اور افسردہ بھی۔

ینگ کے مطابق اسے یہ موقع 1999 ء میں اس وقت میسر آیا جب مقامی حکام نے علاقے کے رہاشیوں پر زور دیا کہ وہ گریٹ وال کی مرمت خود کریں اور انہیں ایسا کرنے کی اجازت بھی دی۔ اُس وقت تعمیرکے اخراجات بچت اور قرضے لے کر ادا کیے گئے۔

52 سالہ Yang Yongfu نے بتایا کہ ابتدا میں لوگوں کو سمجھ نہیں آیا کہ اس نے اس منصوبے پر کیوں کام شروع کیا ہے جس پر قریب پانچ ملین یوآن خرچ ہوئے۔ لوگوں کا خیال تھا دیوار کی مرمت حکومت کا کام ہے لیکن ینگ نے یہ قدم حب الوطنی کے جذبے کے تحت اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

ینگ کی اہلیہ Tao Huiping نے بتایا کہ انہوں نے سیاحوں کے داخلے کے لیے ایک دروازہ قائم کیا ہے۔ وہاں کار پارکنگ اور مچھلیوں کا تالاب بنایا گیا۔ کھلی فضا میں ایک میز رکھتے ہوئے ٹکٹ بوتھ بنایا گیا اور ہر آنے والے سے 25 یوآن بطور داخلہ فیس وصول کی جانے لگی۔

Bildgalerie Wahl neue Weltwunder - Chinesische Mauer

تاؤ نے ہنستے ہوئے مزید بتایا کہ یہاں آنے والے سیاح ینگ کو "شہنشاہ ینگ" کے نام سے بلاتے ہیں، اور وہ اپنے شوہرکے اس غیر معمولی کام پر بہت فخر محسوس کر تھی۔

2006ء میں حکومت نے کچھ ایسے قانون پاس کئے جن کے مطابق ینگ کے اس منصوبے کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ ینگ کا کاروبار تو جاری رہا لیکن اس کو اور وہاں کے مقامی حکام کو دیوار کو حقوق کی منتقلی کے سلسلے میں بہت سے مذاکرات کے بعد بھی کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

ینگ نے بتایا کہ انہیں حکومت کی طرف سے کبھی کوئی حمایت حاصل نہیں ہوئی اور انہوں نے اس پر ایک جعلی دیوار بنانے کا الزام بھی لگایا۔

Jiayuguan کے ثقافتی ورثے کے سربراہ Ye Yong نے بتایا کہ ینگ کا منصوبہ اس وقت ایک مخصوص حالات میں منظور کیا گیا تھا اور وہ ایک ایسا وقت تھا جب حکومت کے پاس پیسے نہیں تھے کہ وہ اپنے کسی ورثے کی حفاظت کر سکے لیکن ثقافتی ورثے سے متعلق نئے قوانین اور قواعد و ضوابط کے مطابق کوئی بھی فرد تعمیر نو کے حکومتی منصوبوں میں حصہ نہیں لے سکتا۔

hm/ai(AFP)