قندوز میں عام شہریوں کی ہلاکت پر امریکا کا ’اظہار افسوس‘ | حالات حاضرہ | DW | 05.11.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قندوز میں عام شہریوں کی ہلاکت پر امریکا کا ’اظہار افسوس‘

افغانستان میں تعینات امریکی افواج نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ رواں ہفتے قندوز صوبے میں کیے گئے ایک فضائی حملے میں ممکنہ طور پر عام شہری مارے گئے ہیں۔

ان حملوں میں کم از کم تیس شہری ہلاک اور چھبیس زخمی ہوئے تھے۔ یہ حملے امریکی افواج نے افغان فورسز کی طالبان کے خلاف کارروائی میں مدد کے لیے کیے تھے۔ ان حملوں میں طالبان کمانڈر ملا طارق اور احمد یار بھی مارے گئے تھے۔ طالبان قندوز پر قبضے کے لیے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

افغانستان میں امریکی فورسز کے کمانڈر جنرل جان ڈبلیو نکلسن کا تحقیقات کے بابت کہنا تھا، ’’میں معصوم انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کرتا ہوں۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ صورت حال کیا رہی تھی۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ شہریوں کی ہلاکت ایک ’’ٹریجیڈی‘‘ ہے۔

افغان حکام کے مطابق حملے کا نشانہ طالبان کمانڈروں کا ایک اجتماع تھا۔

 گزشتہ کئی ماہ سے افغانستان کے شورش زدہ صوبوں ہلمند اور قندوز میں طالبان عسکریت پسندوں اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ ان صوبوں کے کئی اضلاع پر طالبان قبضہ کر چکے ہیں اور اب صوبائی دارالحکومتوں کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کا مقصد محض ہلمند اور قندوز کے دارالحکومتوں پر قبضہ کرنا ہے۔ وہ ان صوبوں کا تمام تر کنٹرول حاصل نہیں کرنا چاہتے۔ یہ ان کی نئی حکمت عملی ہے۔ گزشتہ برس انہوں نے تمام صوبے پر کنٹرول کی کوشش کی تھی تاہم اس کے فوراً بعد ہی ان کو پسپائی بھی اختیار کرنا پڑ گئی تھی۔ وہ یہ صورت حال دہرانا نہیں چاہتے۔

قندوز شمالی افغانستان کو وسطی ایشیا اور باقی ملک سے جوڑتا ہے۔ دو مختلف محاذوں پر بہ یک وقت لڑتے ہوئے اسلامی عسکریت پسند اب صوبے ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ اورشمال میں قندوز شہر پر قبضے کے خواہش مند ہیں۔ اگر طالبان ان دونوں شہروں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایک طرف انہیں ہلمند میں افیون کی تجارت پر مکمل کنٹرول حاصل ہو جائے گا اور دوسری جانب وہ افغانستان کے شمالی علاقوں کو باقی ملک سے کاٹ سکیں گے۔

اس سے نیٹو افواج اور امریکا طالبان یہ پیغام بھی دینا چاہتے ہیں کہ وہ ان علاقوں میں بھی عسکری کامیابی حاصل کر سکتے ہیں جہاں ایک عرصے سے نیٹو افواج ان کی جانب سے پیش کردہ خطرے کو ختم کرنے کی سعی کرتی رہے ہیں۔ اس وجہ سے امریکی افواج کی کوشش ہے کہ ان علاقوں پر طالبان کے قبضے کو روکنے کے لیے افغان فورسز کی امداد کی جائے۔ نئے مینڈیٹ کے مطابق امریکی افواج کا افغانستان میں کردار صری مشاورت اور تربیت تک محدود ہے۔ تاہم بعض موقعوں پر امریکی فوجی اور فضائیہ افغان فورسز کی عسکری معاونت بھی کرتے دکھائی ہیں۔