قندوز سے انخلاء کا مطلب شکست نہیں، افغان طالبان | حالات حاضرہ | DW | 13.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قندوز سے انخلاء کا مطلب شکست نہیں، افغان طالبان

افغان طالبان نے کہا ہے کہ وہ شہری ہلاکتوں کے پیش نظر شمالی شہر قندوز سے پیچھے ہٹے ہیں۔ تاہم ملک کے دیگر علاقوں میں جنگجوؤں اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے منگل کے دن بتایا ہے کہ طالبان باغیوں نے ایک حکمت عملی کے تحت قندوز سے پسپائی اختیار کی ہے۔ ان شدت پسندوں نے کہا ہے کہ دانستہ طور پر پیچھے ہٹنے کا مقصد شہری ہلاکتوں سے بچنا ہے۔ تاہم غزنی میں یہ جنگجو اپنی پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

افغانستان سے نیٹو فوجی مشن کے خاتمے کے بعد اسلام پسند باغی بالخصوص قندوز میں اپنے حملوں میں تیزی لے آئے ہیں۔ گزشتہ ماہ ہی ان جنگجوؤں نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے اس اہم شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔ اگرچہ تین دن کی شدید لڑائی کے بعد حکومتی فورسز نے ان باغیوں کو شہر سے باہر نکال دیا تھا لیکن طالبان کی اس مختصر کامیابی کو مستقبل کے لیے ایک خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

کابل حکومت کے مطابق اب قندوز شہر سے باغیوں کا قبضہ ختم کرایا جا چکا ہے لیکن غزنی میں شدید لڑائی شروع ہو چکی ہے۔ پیر کے دن افغان سکیورٹی فورسز نے کابل کے جنوب میں واقع اس شہر پر طالبان کی طرف سے کیے گئے ایک حملے کو ناکام بنا دیا تھا لیکن غزنی کے نواحی علاقوں میں جھڑپوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق ہزاروں شہری جنگی صورتحال کی وجہ سے غزنی کے مختلف علاقوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ مقامی باشندے سید عبداللہ نے روئٹرز کو بتایا، ’’ ہزاروں کاریں، بسیں اور ٹرک زابل ضلع کے ناروک نامی علاقے میں گزشتہ روز سے پھنسی ہوئی ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم طالبان اور حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں قندوز واپس جانے کی اجازت دی جائے یا ہمیں غزنی کی طرف بڑھنے دیا جائے۔‘‘

US-Soldaten in Afghanistan

قندوز کے پولیس سربراہ محمد قاسم نے بتایا ہے کہ اب قندوز میں طالبان موجود نہیں ہیں

دوسری طرف طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ قندوز شہر سے ان کا انخلاء ایک حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے، جسے ان کی شکست سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ وہ شہری ہلاکتوں کے پیش نظر اس شہر سے پیچھے ہٹے ہیں، ’’ہم اپنے عوام اور دنیا کو یقین دلانے چاہتے تھے کہ ہم اس شہر کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔‘‘ ذبیح اللہ مجاہد کے بقول، ’’مشاورت کے بعد قندوز شہر اور سرکاری عمارتوں سے طالبان واپس آئے ہیں۔ اس کا مقصد شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانا تھا۔‘‘

ادھر قندوز کے پولیس سربراہ محمد قاسم نے بتایا ہے کہ اب قندوز میں طالبان موجود نہیں ہیں اور لوگ واپس لوٹنا شروع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس شہر میں معمول کی زندگی دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔

ملتے جلتے مندرجات

اشتہار