قلات میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کا آپریشن، چھ ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 01.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قلات میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کا آپریشن، چھ ہلاک

بلوچستان کے ضلع قلات میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں چھ مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں جن کے قبضے سے بڑے پیمانے پر اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔

قبل ازیں آج اتوار یکم نومبر کی صبح مستونگ میں ہونے والے ریموٹ کنٹرول بم حملے میں جعفر ایکسپریس کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں مجموعی طور پر چار افراد ہلاک جبکہ 12 دیگر افراد زخمی ہوئے تھے جن میں ریلوے اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری اب تک کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔

بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ اکبر حسین درانی کے بقول عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ قلات کے نواحی علاقے جوہان میں ہوا۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’قلات میں یہ کارروائی انٹیلی جنس اطلاعات پر شروع کی گئی ہے۔ ہمیں یہ اطلاع تھی کہ وہاں کچھ عسکریت پسند روپوش ہیں جو صوبے میں دہشت گردی کی کئی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔ کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے ہے۔‘‘

اکبر حسین درانی کا کہنا تھا کہ قلات اور ملحقہ علاقوں میں کالعدم تنظیموں کے کئی خفیہ ٹھکانے ہیں جہاں روپوش عسکریت پسندوں کی گرفتاری کے لیے یہ آپریشن شروع کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ، ’’بلوچستان کی بد امنی میں ملوث تنظیمیں بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنا کر حکومت کو دباؤ میں لانا چاہتی ہیں۔ قیام امن پر ہم کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔ جو بھی لوگ اپنے مفادات کے لیے بے گناہ لوگوں کی جانوں سے کھیلنے کی کوشش کریں گے ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔‘‘

آپریشن میں ایف سی، لیویز، انسداد دہشت گردی فورس اور حساس اداروں کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں

آپریشن میں ایف سی، لیویز، انسداد دہشت گردی فورس اور حساس اداروں کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں

قلات کے ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار جاوید احمد نے بتایا کہ جوہان اور ملحقہ علاقوں میں جاری آپریشن میں ہیلی کاپٹروں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کے دوران ان کا مزید کہنا تھا، ’’اس آپریشن میں ایف سی، لیویز، انسداد دہشت گردی فورس اور حساس اداروں کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ اب تک سرچ اپریشن کے دوران 25 مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے بڑے پیمانے پر اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے جن میں راکٹ لانچرز، مارٹر گولے، ایل ایم جیز، ایس ایم جیز، دستی بم، جی تھری رائفلیں، واکی ٹاکی سیٹس، دور بینیں، بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد اور ایمونیشن شامل ہے۔‘‘

ایف سی ترجمان خان واسع کے بقول قلات میں جاری سرچ اپریشن کا دائرہ کار بعد میں صوبے کے دیگر شورش زدہ علاقوں تک بھی بڑھایا جائے گا۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’بلوچستان میں دہشت گردی کی یہ ایک نئی لہر ہے۔ آج صبح مستونگ میں کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی مسافر ٹرین پر ہونے والا دہشت گرد حملہ بھی اسی لہر کا ایک تسلسل ہے۔ شدت پسندوں نے اب عام لوگوں پر ایک بار پھر حملے تیز کر دیے ہیں۔‘‘

ایف سی ترجمان نے بتایا کہ مستونگ بم حملے کے بعد صوبے میں قومی تنصیبات سمیت تمام حساس مقامات کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور آئندہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بر وقت نمٹنے کے لیے ٹرینوں میں سکیورٹی فورسز کے اضافی اہلکار بھی تعینات کیے جا ر ہے ہیں۔