قطر کی طرف سے تین بلین ڈالرز کی مدد، تصدیق نہ ہوسکی | حالات حاضرہ | DW | 25.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

قطر کی طرف سے تین بلین ڈالرز کی مدد، تصدیق نہ ہوسکی

قطرکی طرف سے پاکستان کو تین بلین ڈالرز دیے جانے کی خبرکی ابھی تک سرکاری سطح پر کوئی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ جب کہ اس عرب ملک کی طرف سے سرمایہ کاری کی تفصیلات بھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

قطر کے امیر حماد الثانی

قطر کے امیر حماد الثانی

قطرکی طرف سے پاکستان کو تین بلین ڈالرز دیے جانے کی خبرکی ابھی تک سرکاری سطح پر کوئی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ جب کہ اس عرب ملک کی طرف سے سرمایہ کاری کی تفصیلات بھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر کل سے گرم رہی ہے کہ قطر کے امیرحماد الثانی کے دورے کے دوران اس عرب ملک نے پاکستان کے مرکزی بینک میں تین ارب ڈالرز جمع کرانے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم ڈی ڈبلیو نے جب اس سلسلے میں وزارتِ خزانہ کے ترجمان خاقان نجیب سے دریافت کیا تو انہوں نے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی وہ ٹوئیٹ بھیج دی، جس میں انہوں نے قطری امیر حماد الثانی کا تین بلین ڈالرز جمع کرانے اور سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کرنے پر شکریہ ادا کیا تھا۔ 
اکنامک افیئرز ڈویژن کے ایک افسر نے تاہم نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ اعلان صرف اعلان ہی ہے: ’’ابھی تک تو کوئی اطلاع نہیں کہ یہ پیسے کب جمع کرائے جائیں گے؟ اس حوالے سے اب تک کو ئی تفصیلات نہیں آئی ہیں اور صرف اعلان ہی ہوا ہے۔‘‘

Ehemaliger pakistanischer Finanzminister Abdul Hafeez Shaikh

پاکستانی وزارتِ خزانہ کی طرف سے قطری سرمایہ کاری کی خبر کی تصدیق کے طور پر مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی وہ ٹوئیٹ پیش کی گئی جس میں انہوں نے قطری امیر حماد الثانی کا تین بلین ڈالرز جمع کرانے اور سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کرنے پر شکریہ ادا کیا تھا۔


اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان عابد قمر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ابھی تک اس پیسے کی کوئی تفصیلات نہیں ہیں: ’’کیونکہ یہ کل ہی اعلان ہوا ہے، اس لیے اس کی تفصیلات ابھی نہیں ہیں۔ اس سے پہلے سعودی عرب نے تین ارب ڈالرز اسٹیٹ بینک میں جمع کرائے ہیں اور دو بلین ڈالرز متحدہ عرب امارات کی طرف سے آئے ہیں۔ ابھی یہ معلوم نہیں کہ یو اے ای بقیہ ایک بلین ڈالر کب جمع کرائے گا۔‘‘
چین کی طرف سے جمع کرائے گئے پیسے کے حوالے سے بھی عابد قمر نے کہا کہ ان کے پاس اس وقت اس کی تفصیلات نہیں ہیں۔


سعودی عرب کی طرف سے سرمایہ کاری کرنے کے اعلان کی بھی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں۔ پلاننگ کمیشن کے ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’کیسی سرمایہ کاری؟ ابھی تک کو اس کے ٹی او آرز بھی نہیں بنے ہیں۔ جب ٹی او آرز بنیں گے تو پھر پتہ چلے گا لیکن یہ ضرور ہے کہ سعودی عرب گوادر میں آئل ریفائنری بنانا چاہتا ہے اور وہاں سرمایہ کاری کرنےکا ارادہ رکھتا ہے۔‘‘
ملک میں یہ افواہیں بھی گرم ہیں کہ قطری امیر کو اپنا دورہ مختصر کرنا پڑا۔ تاہم وزراتِ خارجہ کے حکام کی جانب سے رابطے کی کوشش کے باوجود کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ڈی ڈبلیو نے وزارتِ خزانہ اور اکنامک افیئرز ڈویژن کے سینیئر افسران سے قطری سرمایہ کاری کی تفصیلات جاننے کے لیے رابطہ کیا لیکن ان افسران نے سوالات کے جواب نہیں دیے۔

DW.COM