قطر کا بحران حل ہونے کی امید پھر طول پکڑ گئی | معاشرہ | DW | 11.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

قطر کا بحران حل ہونے کی امید پھر طول پکڑ گئی

دسمبر میں کویت کے زیر اہتمام مجلس برائے خلیجی تعاون کے سربراہی اجلاس سے قوی امیدیں وابستہ تھیں کہ قطر بحران اب حل ہونے کو ہے تاہم تمام تر امیدیں ایک مرتبہ پھر دم توڑ گئیں۔ نويد أحمد کا تبصرہ۔

دسمبر میں کویت کے زیر اہتمام مجلس برائے خلیجی تعاون کے سربراہی اجلاس سے قوی امیدیں وابستہ تھیں کہ قطر سے کشیدگی کا مسئلہ اب حل ہونے کو ہے، جون میں مقاطع کے اعلان کے بعد سے یہ پہلا موقع تھا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور قطر کے قائدین ایک چھت کے نیچے موجود ہوتے۔

’سعودی صرف مغرب کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں‘

قطری رہنما سعودی اتحاد سے براہ راست مذاکرات پر تیار

سعودی عرب کی قطر پر یہ مہربانی کیوں؟

ویڈیو دیکھیے 02:37
Now live
02:37 منٹ

قطر کا بحران: کون کس کے ساتھ ہے؟

کویت کے امیر شیخ جابر الاحمد الصباح کی کاوشوں کے باعث قطری امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی شرکت کے لیے آئے اور سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے بھی شرکت کی حامی بھری لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر سعودی فرمانروا نے اپنا ارادہ تبدیل کرلیا۔

یوں یہ دو روزہ سربراہی اجلاس چند گھنٹوں میں ہی ختم ہوگیا۔ وزارات خارجہ کے اجلاس کے ختم ہوتے ہی تمام مندوبین اپنے اپنے ممالک روانہ ہوگئے۔ چھ ماہ کی طوالت پر پھیلی ہوئی اس کشیدگی کو ختم کرنے کا سنہری موقع ضائع ہوگیا۔

کویت اجلاس کی ناکامی پورے خطے کے لیے افسوس کا باعث بنی جبکہ کویت اور قطر دونوں کو ہی تحقیر کا نشانہ بنایا گیا۔ سعودی عرب کے نرم رویے میں تبدیلی کا باعث مصر اور اماراتی دباﺅ کو گردانا جارہا ہے۔

پانچ جون سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر سے سفارتی، کاروباری، سفری اور عسکری تعلقات منقطع کرتے وقت 10 مطالبات پیش کیے اور دس روز کی مہلت دی۔ ان میں نمایاں مطالبات مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ قطر ایران سے سفارتی تعلقات ختم کرے اور پاسداران انقلاب سے متعلق افراد کو ملک بدر کرے۔

2۔ الجزیرہ ٹی وی نیٹ ورک کو بند کیا جائے اور العربیہ اور الجدید جیسے نیٹ ورکس کو بھی ختم کرے۔

3۔ ترکی کا فوجی اڈہ بند کیا جائے۔

4۔ اخوان المسلمون اور دیگر تنظیموں جیسے حزب اللہ اور فتح الاشام کو دہشت گرد قرار دے۔

5۔ ان تمام افراد یا اداروں کی مالی مدد، پناہ گزینی ختم کرے، جن کو سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر نے  دہشت گرد قرار دیا ہے۔

6۔ قطر ہمسایہ ممالک میں مداخلت اور سیاسی انتشار بازی کو ختم کرے۔

قطر نے مذاکرات پر تو آمادگی کا اظہار کیا مگر ملکی سالمیت اور وقار پر سمجھوتے کو خارج از امکان قرار دے دیا۔ امریکا، برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک کی کوششوں کے باعث 10 دن گزرنے کے باوجود قطر پر مزید پابندیاں نہیں لگائی گئیں۔

کویت ابتداء سے اس معاملے کو مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش میں مصروف رہا ہے۔ اس کے 88 سالہ امیر پوری عرب دنیا میں احترام کے نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ ایک دیرینہ سفارتکار ہونے کے علاوہ وہ منجھے ہوئے وزیر خارجہ بھی رہے ہیں۔ شیخ الصباح کی کاوش کے نتیجے میں خفیہ مذاکرات کے ذریعے اس کشیدگی میں اضافہ تو نہ ہوا مگر قطر پر منفی معاشی اثرات ضرور مرتب ہوئے۔

قدرتی گیس کی نعمت سے مالا مال قطر نے اب تک کسی قسم کا ٹیکس یا راہداری عائد نہیں کی ہے۔ قطری ریال کی قدر بھی بدستور برقرار ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قلت تو نہیں ہوئی مگر قیمتوں میں قدرے اضافہ ضرور ہوا ہے۔

حال ہی میں قطر نے ایران اور ترکی سے تجارتی مال کی رسد کا معاہدہ کیا ہے۔ وہ تمام تر اجناس اور آلات جو پہلے عرب ہمسایہ ممالک سے منگوائے جاتے تھے اب وہ ترکی، ایران اور پاکستان سے درآمد ہوتے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ میں ترکی اور قطر کی تجارت میں 90 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی قدر 300 ملین ڈالر ہے۔

قطر نے ترکی کے زرعی شعبے میں 650 ملین ڈالر سرمایہ کاری کا معاہدہ بھی کیا، جس کا مقصد مستقبل میں زرعی اجناس کی بلا تعطل فراہمی ہے۔ مزید برآں آسٹریلیا سے گائے کی درآمد سے ملک میں دودھ کی ضرورت کو پورا کرنے کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا۔

باہمی تعلقات میں کشیدگی کے باعث ہمسایہ ممالک (سعوی عرب امارات، بحرین)  قطر میں اپنی املاک اور کاروبار فروخت کر رہے ہیں تاکہ سرمایہ واپس لے جایا سکے۔ قطر بھی جواب میں حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔ مثلاً دوحہ میں 25منزلہ ڈولفن ٹاور جو اماراتی شیخ حمدال بن زید النہیان کی ملکیت ہے، فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق اس بحران کے باعث مستقبل قریب میں اقتصادی پھیلاﺅ کے اہداف کم کرنے پڑسکتے ہیں۔

اگرچہ تعمیراتی اور مہمان نوازی کے سیکٹر میں قطر میں بحران کا خاطر خواہ اثر دکھائی دیتا ہے مگر خطے اور عالمی تعلقات کے برعکس قطر اندرونی معاشی یا سیاسی بحران سے محفوظ رہا ہے۔ قطری عوام نے بھی مشکل وقت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔

Naveed Ahmed

نويد أحمد خلیج میں مقیم پاکستانی تحقیقاتی صحافی ہیں ۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں عسكرى، سفارتى اور ریاستى امور پر تحقیق اور رپورٹنگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ Twitter @naveed360

مجموعی طور پر خلیجی ممالک کے باہمی تعاون کو دھچکا ضرور پہنچا ہے اور اس مسئلے حل ہونے کے بعد  حالات پہلے جیسے بہتر ہو جائیں گے۔ سعودی عرب میں بدلتے حالات کے پیش نظر امکان ہے کہ قطر سے تعلقات میں بہتری ترجیحات میں شامل ہے۔ البتہ ریاض، ابوظہبی، ماناما اور قاہرہ کی رضامندی کے بغیر آگے بڑھنے کا روادار نہیں ہوگا۔

کویت میں سربراہی اجلاس کا انعقاد نہ ہونا قطری قیادت کے لیے قدرے مایوس کن ضرور ہے مگر تاحال دوحہ کی پالیسی میں سختی نہیں آئی۔ سعودی عرب اور امارات میں بھی اس اجلاس پر خاطر خواہ بحث ہوئی۔ تمام خلیجی ممالک امریکا یا مغربی دنیا سے بہترین تعلقات کے باوجود خطے کے معاملات کو باہمی طور پر حل کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے کویت کی مصالحتی کاوشیں ابھی بھی امید کی علامت ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یروشلم میں سفارتخانے کی منتقلی کے اعلان نے دنیا کی توجہ دیگر مسائل سے ہٹا دی ہے۔ فی الوقت مشرق وسطیٰ کے دیگر تنازعات کی طرح قطر سے کشیدگی کا مسئلہ بھی حل کیے بنا دوسری شہ سرخیوں میں دبتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ خلیجی ممالک میں کشیدگی پوری دنیا کی معاشی صورتحال پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

 

DW.COM

Audios and videos on the topic

اشتہار