قطر مذاکرات معطل، افغان عمل کے لیے ایک دھچکا | حالات حاضرہ | DW | 19.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

قطر مذاکرات معطل، افغان عمل کے لیے ایک دھچکا

کابل حکومت اور طالبان کے مابین براہ راست مذاکراتی عمل کا التوا، افغانستان میں گزشتہ سولہ برسوں سے جاری جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے مابین اہم ملاقات کی غیر معینہ مدت کے لیے منسوخی دراصل افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے وفد میں شامل افراد پر آخری وقت میں اعتراض کر دیا۔ شرکاء کی یہ فہرست قطر کے سینٹر برائے ’کانفلکٹ اینڈ ہومینٹیرین اسٹڈیز‘ کے ڈائریکٹر سلطان باراکات نے تیار کی تھی۔ امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں قیام امن کی خاطر اس مذاکراتی عمل کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا تھا۔

یہ پیشرفت ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے، جب افغان طالبان اپنے حملوں میں تیزی لائے ہوئے ہیں اور افغانستان کے نصف حصے پر ان کا کنٹرول قائم ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ برس کے دوران طالبان کے حملوں کے نتیجے میں تین ہزار آٹھ سو چار شہری لقمہ اجل بنے۔

امریکی حکومت افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کی سرپرستی کر رہی ہے۔ واشنگٹن نے قطر میں طالبان اور کابل حکومت کے مابین ہونے والی سمٹ کی منسوخی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ساتھ ہی زور دیا گیا ہے کہ فریقین مذاکرات کی میز پر جلد ہی لوٹ آئیں۔ امریکی حکام کے مطابق ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ اب یہ سمٹ کب منعقد کی جائے گی۔

دوسری طرف سلطان باراکات نے کہا ہے کہ اس سمٹ کا مؤخر ہونا ’ضروری تھا تاکہ مزید مشاورت کرتے ہوئے اس مذاکراتی عمل کے شرکاء کی بہتر فہرست تیار کی جا سکے‘۔ اس مذاکراتی عمل کی نگرانی کرنے والے سلطان باراکات نے مزید کہا کہ ابھی تک صورتحال واضح نہیں ہو سکی۔

افغان صدر اشرف غنی کی انتظامیہ نے اپنے مذاکراتی وفد کے لیے ڈھائی سو افراد کی فہرست تیار کی تھی، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات شامل تھیں۔ تاہم طالبان نے اس طویل فہرست پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’معمول کی بات نہیں‘ اور وہ اتنے زیادہ لوگوں سے ملنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ طالبان نے مزید کہا کہ یہ کوئی عوامی ایونٹ یا شادی کی تقریب نہیں کہ اس مذاکراتی عمل میں اتنے زیادہ لوگوں کی شرکت پر زور دیا جائے۔

ادھر صدر غنی کی انتظامیہ نے اس سمٹ کی ناکامی کا ذمہ دار قطر کو قرار دے دیا ہے۔ صدارتی دفتر کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق ’قطر نے اس مجوزہ فہرست کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ شرکا کی تعداد کو کم کیا جائے، جو ناقابل قبول ہے‘۔

افغانستان کے لیے خصوصی امریکی مندوب زلمے خلیل زاد نے اس صورتحال پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فریقین کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں کہ سب مکالمت کے لیے پرعزم رہیں۔ انہوں نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں اطراف پر زور دیا کہ وہ یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں اور اس مذاکراتی عمل کے شرکاء کی ایک ایسی فہرست تیار کریں، جس میں افغان عوام کی نمائندگی ہو سکے۔

ع ب/ ا ا / خبر رساں ادارے

DW.COM