قطر سے کیے گئے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، سعودی عرب | حالات حاضرہ | DW | 01.07.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قطر سے کیے گئے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، سعودی عرب

سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ قطر کو پیش کیے گئے مطالبات سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ دوسری جانب قطر نے انہیں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ تو الجزیزہ ٹیلی وژن بند کیا جائے گا اور نہ ہی ترک فوجی بیس کا خاتمہ ہوگا۔

تمام تر سفارتی کوششوں کے باوجود قطر اور خلیجی ممالک کے درمیان پیدا ہونے والا بحران ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل بن الجبير نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ قطر کے سامنے رکھے گئے مطالبات ’ناقابل سمجھوتہ‘ ہیں۔

گزشتہ ہفتے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے تعلقات کی دوبارہ بحالی کے لیے قطر سے تیرہ مطالبات کیے تھے۔ ان میں ایران کے ساتھ تعلقات کا خاتمہ، اسلامی گروپوں کی حمایت ختم اور الجزیرہ ٹیلی وژن اسٹیشن بند کرنے جیسے مطالبات شامل تھے۔

دوسری جانب قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے کہا ہے کہ وہ ان میں سے زیادہ تر مطالبات کو مسترد کرتے ہیں لیکن وہ ان مطالبات کے حوالے سے مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

قطری وزیر خارجہ کے مطابق سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی جانب سے مطالبات منوانے کے حوالے سے الٹی میٹم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نہیں دیا گیا بلکہ یہ قطر کی حاکمیت کو کچلنے کے لیے دیا گیا ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ نہ تو الجزیزہ ٹیلی وژن بند کیا جائے گا اور نہ ہی ترک فوجی بیس کا خاتمہ ہوگا۔

تنازعہ مذاکرات سے حل ہونے کی امید

 دریں اثناء ترکی نے امید ظاہر کی ہے کہ قطر اور دیگر عرب ممالک کے مابین پیدا ہونے والا سفارتی بحران مذاکرات کے ذریعے حل کر لیا جائے گا۔  یہ بیان انقرہ کے دورے پر آئے ہوئے قطری وزیر دفاع خالد بن محمد العطيہ کی ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے  ملاقات کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ ترک صدارتی ترجمان ابراہیم قالین کا کہنا تھا، ’’ایسے کچھ اشارے ہیں کہ یہ بحران حل کیا جا سکتا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ معاملات کو صحیح سمت میں لے جانے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے بھی یہ بحران سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے بھی اس حوالے سے آج قطر اور بحرین کے حکام سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔

DW.COM

اشتہار