قسمت مہربان ہو تو ایسے | معاشرہ | DW | 11.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

قسمت مہربان ہو تو ایسے

ایک ہفتے کے دوران قسمت دو مرتبہ محمد بشیر پر مہربان ہوئی۔ دبئی کے ہوائی اڈے پر امارات ایئرلائنز کے جہاز کی کریش لینڈنگ میں ان کی جان بال بال بچی اور اسی ایئر پورٹ پر انہوں نے ایک ملین ڈالر کی لاٹری کا انعام بھی جیت لیا۔

Dubai Mohammad Basheer Abdul Khadar

محمد بشیر کے لیے دبئی کے ہوائی اڈے پر ’ملینیئم ملینئر‘ لاٹری میں ٹکٹ نمبر 845 انتہائی خوش قستی کا باعث بن گیا

62 سالہ محمد بشیر بھارت سے چھٹیاں گزار کر اپنے اہل خانہ کے ہمراہ واپس دبئی آرہے تھے، جب امارات ایئر لائنز کے بوئنگ 777 طیارے کو لینڈنگ کے دوران آگ لگ گئی۔ تب اس طیارے کو کریش لینڈنگ کرنا پڑ گئی تھی۔ اس جہاز میں عملے سمیت مجموعی طور پر 300 افراد سوار تھے۔

اس حادثے کی وجہ سے نہ صرف مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے ایئرپورٹ کو کئی گھنٹوں کے لیے بند کرنا پڑ گیا تھا بلکہ سیکنڑوں پروازیں بھی منسوخ کرنا پڑ گئی تھیں۔ اس حادثے میں جہاز کا عملہ اور تمام مسافر محفوظ رہے تھے تاہم آگ بجھانے والی ٹیم کا ایک کارکن جانبر نہ ہو سکا تھا۔

اس واقعے کے چھ روز بعد محمد بشیر کو معلوم ہوا کہ بھارت جاتے وقت لاٹری کا جو ٹکٹ انہوں نے دبئی ایئر پورٹ سے خریدا تھا اس پر وہ ایک ملین ڈالر کا انعام جیت چکے ہیں۔

Dubai Mohammad Basheer Abdul Khadar

محمد بشیرریٹائرمنٹ کے بعد کیرالا میں رہائش اختیار کرے گا اور وہاں غریب بچوں کی فلاح وبہبود کے لیے کام کرے گا

محمد بشیر دبئی میں گاڑیوں کی ایک کمپنی میں سازوسامان کے منتظم کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق وہ بھارت کی ریاست کیرالا میں اپنے خاندان سے ملاقات کے لیے جاتے ہوئے اکثر دبئی ایئرپورٹ سے لاٹری کا ٹکٹ خرید لیتے تھے۔

محمد بشیر کے لیے دبئی کے ہوائی اڈے پر ’ملینیئم ملینئر‘ لاٹری میں ٹکٹ نمبر 845 انتہائی خوش قستی کا باعث بن گیا۔ محمد بشر نے دبئی کے اخبار گلف نیوز کو ایک انٹرویو میں بتایا، ’’میں ایک سادہ زندگی گزارتا ہوں۔ اب میری ریٹائرمنٹ کا وقت ہے۔ جب میں جہاز کی کریش لینڈنگ میں بچ گیا تو مجھے خدا نے ایک نئی زندگی عطا کی اور اب اتنے زیادہ پیسوں سے نوازا ہے کہ میں اچھے کام کر سکوں۔‘‘

Dubai Mohammad Basheer Abdul Khadar

محمد بشیر دبئی میں گاڑیوں کی ایک کمپنی میں سازوسامان کے منتظم کی حیثیت سے کام کرتے ہیں

محمد بشیر گزشتہ 37 برسوں سے دبئی میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کے دو بچے ہیں، جن میں سے ایک بچپن میں ایک حادثے میں معذور ہو گیا تھا۔ محمد بشیر کا کہنا ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد کیرالا میں رہائش اختیار کریں گے اور وہاں غریب بچوں کی فلاح وبہبود کے لیے کام کریں گے۔ محمد بشیر نے کہا کہ وہ ماہانہ 2200 امریکی ڈالر کماتے ہیں اور جب تک وہ محنت کرنے کے قابل ہیں کام کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی محنت سے کمائی ہوئی رقم ان کے لیے سب سے زیادہ سکون کا باعث بنتی ہے۔

DW.COM