قدیم زندگی کی کھوج: مريخ روور 2020 اس سال روانہ ہو گا | سائنس اور ماحول | DW | 17.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

قدیم زندگی کی کھوج: مريخ روور 2020 اس سال روانہ ہو گا

مریخ روور 2020 جو اس سال جولائی کے مہینے میں مریخ کے سفر پر روانہ ہو گا، نہ صرف سرخ سیارے پر قدیم زندگی کے آثار تلاش کرے گا بلکہ مستقبل ميں مريخ پر انسانی مشنوں کی راہ بھی ہموار کرے گا۔

یہ تفصیلات امريکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے گزشتہ ماہ مارس روور 2020 کی نقاب کشائی کے موقع پر بتائيں۔ مریخ پر بھیجنے کے لیے تیار کی جانے والی یہ گاڑی لاس اینجلس کے قریب موجود جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے سائنسی بنيادوں پر تیار کیے گئے ایک انتہائی صاف ستھرے کمرے میں رکھی گئی ہے۔ اسی جگہ گاڑی کے کامیاب ٹیسٹ ھی کیے گئے۔
ناسا نے ایک تقریب میں صحافیوں کو مدعو کر کے اس گاڑی کو پیش کیا۔ مارس روور جولائی سن 2020 میں مریخ کے سفر پر روانہ ہو گا۔ آئندہ برس فروری میں یہ گاڑی اپنا سفر مکمل کر کے مریخ کی سطح پر اترے گی۔ مریخ پر پہنچنے والا یہ پانچواں امریکی روور ہو گا۔

مشن کے نائب صدر میٹ ویلس نے بتایا کہ اس گاڑی پر نصب انتہائی جدید آلات نہ صرف مریخ پر زندگی کی تلاش میں مدد دیں گے بلکہ مریخ کی سطح پر ارضیاتی اور کیمیائی اجزاء کو سمجھنے میں بھی مدد حاصل ہو گی۔ اس گاڑی پر نصب آلات میں تیئس کیمرے اور آوازیں ریکارڈ کرنے کے لیے دو مائیک بھی شامل ہیں۔ یہ مریخ پر چلنے والی ہواوں کو سن سکیں گے اور کیمیائی تجزیے کے لیے لیزرز بھی موجود ہیں۔

مریخ روور 2020 ایک چھوٹی گاڑی کے برابر ہے۔ روور اپنے پیشرو مشن کیوروسٹی کی طرح چھ پہیوں سے لیس ہے، جو اس کو پتھریلی سطح پر چلنے میں مدد دیں گے۔ رفتار اس گاڑی کے ليے مسئلہ نہیں ہے کیونکہ اس کو مریخ کے ایک دن میں تقریباً دو سو گز کا فاصلہ طے کرنا پڑے گا۔

مشن کے نائب صدرمیٹ ویلس کا کہنا تھا، ’’ہم مریخ پر جس چیز کی تلاش کر رہے ہیں وہ قدیم مائیکروبل زندگی ہے۔ ہم اربوں سال پہلے کے مریخ کی بات کر رہے ہیں جب یہ سرخ سیارہ زمین کی طرح کا ایک سیارہ تھا۔ اس وقت اس سیارے کی سطح پر گرم پانی بھی تھا اور اس کے ارد گرد مقناطیسی قوت بھی تھی۔‘‘

مریخ پر قدیم زندگی کے نشانات کی کھوج لگانے کے امکانات کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی خاطر یہ گاڑی مریخ کے ایک طویل خشک ڈیلٹا جزیرو پر اترے گی۔ برس ہا برس کے سائنسی مباحثے کے بعد اس جگہ کا انتخاب کیا گیا کیونکہ یہ مقام ایک گڑھا ہے، جو کبھی پانچ سو گز کی گہری جھیل ہوا کرتا تھا۔

ع ش / ع س، نيوز ايجنسياں