قدرت کا تحفظ مل کر کرنا ہے، جکارتہ کانفرنس کا اعلامیہ | مکالمہ | DW | 31.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

مکالمہ

قدرت کا تحفظ مل کر کرنا ہے، جکارتہ کانفرنس کا اعلامیہ

جکارتہ منعقدہ بین الاقوامی ایکو اسلام کانفرنس کے اختتام پر تمام شرکا نے عہد کیا کہ وہ تحفظ ماحول کی خاطر بھرپور کوشش کریں گے۔

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ایکو اسلام نامی دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر تمام شرکاء نے اتفاق کیا کہ انسانی مستقبل اسی صورت میں محفوظ ہو سکتا ہے، جب تمام انسان مل کر قدرت کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کریں۔ یہ کانفرنس ڈی ڈبلیو اور واحد انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے منعقد کی گئی۔

ایکو اسلام کانفرنس کا موٹو تھا، 'انسانوں سے اور فطرت سے پیار کریں‘ ۔ یہ کانفرنس تیس اور اکتیس اکتوبر کو جکارتہ میں منعقد کی گئی، جس میں بین الاقوامی مندوبین نے بھی شرکت کی۔ ان میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے ماحول دوست کارکنان احمد شبر اور توفیق پاشا بھی شامل تھے۔

اس دو روزہ کانفرنس کے پہلے دن افتتاحی سیشن میں واحد انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ مجتبیٰ حمیدی نے کہا کہ قدرت کا محفوظ بنانے کی خاطر تمام مسلمانوں کو اپنی مذہبی ذمہ داری سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، '' اللہ نے انسانوں کو اپنا نمائندہ بنا کر زمین پر بھیجا ہے اور اس کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ خدا کی تخلیق کردہ قدرت کا خیال رکھے۔‘‘

مجتبیٰ کا مزید کہنا تھا کہ یہ کانفرنس اس مشن کا حصہ ہے، جس کے تحت وہ اسلام کے پرامن پیغام کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بقائے باہمی کے فلسفے کے تحت زندگی گزارنا چاہیے اور ساتھ ہی تحفظ ماحول کو یقینی بنانا چاہیے۔

ڈی ڈبلیو کے شعبہ ایشیا کی سربراہ دیبا راتی گوہا نے کانفرنس کے شرکا سے خطاب میں کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں انسانوں کو اپنی روایتی رویوں میں تبدیلی لانا ہو گی اور ماحول دوست طرز زندگی کو اپنی عادت بنانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا موٹو ہے، انسانوں سے اور فطرت سے پیار کریں‘ اور یہ دونوں باتیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔

دیبا راتی گوہا کے بقول دنیا کے تقریبا سبھی مذاہب کسی نہ کسی حوالے سے ماحول اور قدرت کے تحفظ کو یقینی بنانے کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قدرت سے پیار کرنے کا مطلب ہے کہ انسانوں سے بھی پیار کیا جائے۔ گوہا کے مطابق اسلامی تعلیمات کے علاوہ ہندو مت، بودھ مت، مسیحیت اور یہودیت میں بھی قدرت کی حفاظت سے متعلق احکامات ملتے ہیں۔

اس کانفرنس کے پہلے دن انڈونیشیا کی وزارت برائے ماحولیات کی نمائندہ سیسلیا سولاستری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کلائمٹ چینج اور ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کی خاطر حکومتی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ بالخصوص انہوں نے پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ یہ ماحول کے لیے زہر قاتل ہے۔

انڈونیشیا میں ماحول دوست مساجد کی تعمیر کرنے کے منصوبے کے بانی ہایوں پروبوو کے مطابق اسلام میں قدرتی وسائل کو ضائع کرنا منع ہے اور مساجد کو ان آفاقی تعلیمات کی ایک مثال ہونا چاہیے۔ انہوں نے کانفرنس کے شرکا سے کہا کہ قدرت کا تحفظ اسلام کا ایک اہم جزو ہے۔

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے عالمی مذاہب کے پروفیسر ابو سیام نے اپنے پیغام میں کہا کہ اسلام کے مطابق ماحولیات میں توازن انتہائی اہم ہے اور انسان اسی توازن کا ایک حصہ ہیں۔ اگر انسان قدرتی ماحول کو تباہ کر رہا ہے تو دراصل وہ اپنے خالق کی نافرمانی کر رہا ہے۔

پاکستانی شہر کراچی سے تعلق رکھنے والے تحفظ ماحولیات کے کارکن توفیق پاشا نے کہا کہ ماحول کا مطلب زمین ہے، جیسے دھرتی ماں بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن ہم اس کے ساتھ ویسا برتاؤ نہیں کرتے جیسا ماؤں کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ زمین کی حالت اچھی نہیں ہیں، اور انسانوں نے ہی اس کا خیال رکھنا ہے۔

اسی طرح کراچی میں 'گاربیج کین‘ کے بانی اور تحفظ ماحول کے کارکن احمد شبر کے مطابق انسانوں کی بقا کے لیے اچھا ماحول ناگزیر ہے۔ روز مرہ زندگی میں پائیدار طرز عمل پرامن مستقبل کی کنجی ہے۔

آگسٹینا اسکندر نے اپنے پیغام میں کہا کہ اس زمین کی تباہی کے بعد انسانوں کے پاس ایسا کوئی دوسرا سیارہ نہیں، جہاں زندگی ممکن ہو۔ اس لیے سب لوگوں کو مل کر تحفظ ماحول کو یقینی بنانا ہے۔ ورلڈ کلین اپ ڈے انڈونیشیا کی رکن اسکندر نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ لوگ اس بات کو سمجھتے ہیں اور مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔

انڈونیشیا میں تحفظ ماحولیات کا موضوع نیا نہیں۔ اس دو روزہ کانفرنس کے دوران مقامی ماڈلز نے ماحول دوست مصنوعات کی نمائش بھی کی، جس کا مقصد روزمرہ کی زندگی میں ماحول دوست انداز اختیار کرنے پر زور دینا تھا۔ اس کانفرنس میں ماحول دوست مصنوعات کی نمائش بھی کی گئی اور پیغام دیا گیا کہ ماحول دوست طرز زندگی کے بغیر زمین پر انسانوں کا مستقبل تاریک ہے۔

اس دور روزہ کانفرنس کے دوسرے دن جکارتہ میں ایک مدرسے میں علامتی طور شجر کاری بھی کی گئی۔ اس دوران اس کانفرنس کے شرکاء نے مدرسے کے بچوں کی موجودگی میں درخت لگائے اور اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ ماحول اور قدرت کا تحفظ یقینی بنانے کی خاطر ہر ممکن کوشش کریں گے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic