1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

قانون کی حکمرانی: پاکستان کی صورتحال پر تشویش

عبدالستار، اسلام آباد
20 اکتوبر 2021

قانون کی حکمرانی کے حوالے سے ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کی دو ہزار اکیس کی انڈیکس کے مطابق پاکستان 139 ممالک کی فہرست میں 130 ویں نمبر پر ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے پاکستان کی نچلی رینکنگ پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

https://p.dw.com/p/41vTl
Pakistan Gericht | Supreme Court
تصویر: Waseem Khan/AP Photo//picture alliance

پاکستان کی یہ رینکنگ نہ صرف دنیا میں بہت نیچے ہے بلکہ جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی اس کی رینکنگ حوصلہ افزا نہیں ہے اور اس حوالے سے نیپال، سری لنکا، انڈیا اور بنگلہ دیش کی کارکردگی پاکستان سے نسبتا بہتر ہے۔ صرف افغانستان کی کارکردگی پاکستان سے بدتر ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بدعنوانی کو قابو کرنے، بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ اور ریگولیشنز کے حوالے سے پاکستان کی کارکردگی انتہائی بری ہے۔ اس کے علاوہ کرمنل جسٹس، سول جسٹس، اہل اقتدار یا اہل اختیار کے طرز عمل میں قانون کی حکمرانی کا اصول اور شفاف حکومت کے حوالے سے بھی پاکستان کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے۔ سول جسٹس کے حوالے سے پاکستان کا نمبر ایک سو چوبیسواں اور ریگولیشن کے حوالے سے ایک سو تیسواں ہے۔

خطرناک صورت حال

معروف قانون داں علی احمد کرد کا کہنا ہے کہ ملک بہت خطرناک صورتحال سے گزر رہا ہے اور ملک میں ہر ادارے کی ابتری کی عکاسی یہ بین الاقوامی رپورٹ بھی کر رہی ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ایسا لگتا ہے کہ ملک میں کوئی عدالت، کوئی پارلیمنٹ، کوئی حکومت وجود نہیں رکھتی۔ لوگوں کے بنیادی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔ بولنے اور سوچنے کی آزادی پر قدغن لگائی جارہی ہیں۔ ہر چیز کو اسٹیبلشمنٹ کنٹرول کر رہی ہے۔ سرکار کی طرف سے تعلیم، روزگار، صحت اور جان و مال سمیت کسی بھی بنیادی حق کی آزادی نہیں ہے۔‘‘

علی احمد کرد کا مزید یہ کہنا تھا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی اس لیے نہیں ہے کیونکہ تمام اختیارات ایک ادارے نے اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں اور وہ سب چیزوں کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔

قانون تو بن گیا لیکن ’میراتہ‘ ختم کب ہو گا؟

قانون کی عملداری

سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل آف پاکستان شاہ خاور ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ملک میں غیر قانونی طور پر لوگوں کو حراست میں لیا جانا یا گرفتار کرنے کا عمل بھی اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان قانون کی حکمرانی کے اصول سے دور ہے یا یہاں یہ حکمرانی کمزور ہے۔

شاہ خاور نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''پاکستان میں بنیادی حقوق کی ضمانت آٗئین نے دی ہے اور ملک کے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ اس حوالے سے کارروائی بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ملک میں جبری گمشدگی کا معاملہ سنگین صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے اور غیر قانونی طور پر لوگوں کو حراست میں لے لیا جاتا ہے اور ایسا ملک کے طاقتور ترین اداروں کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ جب کوئی سائل ہائی کورٹ میں درخواست لے کر پہنچتا ہے تو یا ایسے افراد کو چھوڑ دیا جاتا ہے یا پھر انہیں کسی اور مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔‘‘

سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل آف پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ جبری گمشدگی کے حوالے سے قوانین بھی ہیں، ''لیکن بدقسمتی سے عملی طور پر وہ اتنے موثر ثابت نہیں ہو پاتے، جس کی وجہ سے یہ مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہو پایا ہے۔‘‘

عدم توجہی اور انسانی حقوق

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے سابق چیئر پرسن ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ اس میں پاکستان کی رینکنگ اس لیے کمزور ہے کیونکہ پاکستان کبھی بھی بنیادی انسانی حقوق یا گورننس کے کسی بھی مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔

ڈاکٹر حسن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ملک میں بنیادی انسانی حقوق عوام کو دینے کا کوئی تصور نہیں۔ حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتیں اور ان کے رہنما اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ سول اور کرمنل جسٹس سسٹم صرف طاقتور کے مفاد کا تحفظ کرتا ہے۔ آزادی اظہار رائے اور سوچ کی آزادی ناپید ہے۔ غریب آدمی کو انصاف نہیں ملتا اور غریب آدمی کے لیے انصاف انتہائی مہنگا ہے۔ انصاف کے اداروں تک اس کی رسائی ممکن نہیں۔‘‘

ڈاکٹر مہدی حسن کا مزید کہنا تھا کہ ایسی رپورٹوں میں رینکنگ ان ممالک کی ہوتی ہے جو جمہوری اقدار کی پاسداری کرتی ہیں، ''لیکن ہمارے یہاں حکمران جماعتیں ہو یا حزب اختلاف کی جماعتیں، طاقتور بیوروکریٹس یا کسی اور ادارے کے لوگ کوئی بھی جمہوری اقدار کی پاسداری کرنا نہیں چاہتے اور نہ ہی وہ قانون کی حکمرانی کے فلسفے کو سمجھتے ہیں یا اس کے اصولوں کا اطلاق کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

پاکستان ميں ’ايجنٹ مافيا‘ اب بھی سرگرم، حکام بھی الزامات کی زد ميں