فوج میرے مکمل کنٹرول میں نہیں ہے، بشارلاسد | حالات حاضرہ | DW | 07.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

فوج میرے مکمل کنٹرول میں نہیں ہے، بشارلاسد

شام کے صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ ملکی فوج پوری طرح ان کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ ان کے بقول کریک ڈاؤں کی پالیسی اختیار کرنے اور غلط اقدام اٹھانے میں فرق ہے۔

شام کے صدر بشار الاسد

شام کے صدر بشار الاسد

ایک امریکی ٹیلی وژن کو انٹریو دیتے ہوئے بشارالاسد نے کہا کہ وہ ملک کے صدر تو ہیں لیکن شام ان کی میراث نہیں ہے، اسی وجہ سے یہ ان کی فوج نہیں ہے۔ بشارالاسد نے مخالفین کے کریک ڈاؤن کے حوالے سے تمام تر ذمہ داری لینے سے انکار کر دیا۔

انہوں نےکہا کہ کریک ڈاؤن کی پالیسی اختیار کرنے اور کچھ سرکاری اہلکاروں کی جانب سے غلط اقدام اٹھانے میں فرق ہے۔ انٹرویو کے دوران اسد نے بار بار ملک میں گزشتہ نو ماہ سے جاری بد امنی کے حوالے سے اپنے مؤقف کا دفاع کیا۔ شام میں مارچ میں حکومت مخالف تحریک شروع ہونے کے بعد سے اے بی سی کے ساتھ بشارالاسد کا یہ پہلا انٹرویو تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر کی جانب سے شام کے صدر پر تنقید کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایسے کئی مواقع آئے تھے، جب بشارالاسد ملک میں جاری پرتشدد کارروائیوں کو روک سکتے تھے۔ ٹونر کے بقول اسد کا یہ دعوٰی بڑا مضحکہ خیز ہے کہ وہ اپنے ہی ملک میں اختیار نہیں رکھتے اور ایسا محسوس ہو رہا کہ وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تمام واقعات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسد خاندان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آہنی طاقت رکھتا ہے اور اسی وجہ سے وہ گزشتہ چار دہائیوں سے شام پر حکومت کر رہا ہے۔ بشارالاسد کے بھائی لیفٹیننٹ کرنل ماھر الاسد بری فوج کے چوتھی ڈویژن کے سربراہ ہیں۔ یہ ڈویژن دارالحکومت کی نگہباں ہے اور ریپبلکن گارڈ بھی انہی کے کنٹرول میں آتے ہیں۔

Syrien Damaskus Pro-Assad Demonstration

شام میں اسد نواز ریلیاں بھی نکالی جا رہی ہیں

شامی صدر سے باربرا والٹرز نے انٹریو کیا۔ ان کا شمار ہائی پروفائل شخصیات کے انٹرویو کرنے والے صحافیوں میں ہوتا ہے۔ وہ اے بی سی چینل پر’دی ویو‘ نامی شو بھی کرتی ہیں۔

اسی دوران شام کے لیے فرانسیسی سفیر نے دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنھبال لی ہیں۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کے مطابق ایرک شاولیر کو نومبر کے وسط میں پیرس واپس بلا لیا گیا تھا اور اب ان کی واپسی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شامی حکومت کے حوالے سے فرانس کی پالیسی میں کوئی تبدیلی آ گئی ہے۔ نومبر میں صدر بشارالاسد کے حامیوں کی جانب سے اعزازی سفیر پر حملے کے بعد پیرس حکام نے انہیں واپس لیا تھا۔ وزارت خارجہ کے مطابق ایرک شاولیر کی خدمات شام کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ مزید یہ کہ فرانس اب اور بھی زیادہ شامی عوام کے ساتھ ہو گیا ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس